کوئٹہ کے سریاب روڈ پر چھ مسلح ملزمان نجی بینک سے کیش لوٹ کر فرار ہوگئے، پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

September 15, 2026

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت سے قبل پرویز ہود بھائی کے ادارے بلیک ہول میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے، جسے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

September 15, 2026

بی ایل اے کی کارروائیوں سے خاران میں سڑک اور ماشکیل میں معاشی سرگرمی متاثر ہوئی، جس کا نقصان براہِ راست عام شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔

September 15, 2026

خضدار میں 16 سالہ طالبہ سدرا کے مبینہ اغوا کا دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، تاہم واقعے کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

September 15, 2026

پمز نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ میں بجلی کی خرابی، فائر سیفٹی کی خامیوں اور ہنگامی ردعمل میں تاخیر کو 14 نومولود کی ہلاکت کے اہم عوامل قرار دیا گیا۔

September 15, 2026

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے 7 سینئر رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی۔

September 15, 2026

عدلیہ پر دباؤ کا حربہ: ایمان مزاری کیس سے قبل شیریں مزاری اور ہود بھائی سرگرم

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت سے قبل پرویز ہود بھائی کے ادارے بلیک ہول میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے، جسے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایمان مزاری کیس: سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بے نقاب

ایمان مزاری کیس کی 17 ستمبر کو سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل پرویز ہود بھائی کے ادارے میں تقریب رکھی گئی۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ حلقوں کی جانب سے عدلیہ پر دباؤ کے الزامات۔

September 15, 2026

ایمان مزاری کیس کی سپریم کورٹ میں 17 ستمبر 2026 کو سماعت مقرر ہے۔ اس اہم پیش رفت سے ٹھیک پہلے اسلام آباد میں ریاست مخالف حلقوں نے باقاعدہ منظم مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

اس پوری مہم کا مقصد سپریم کورٹ کے بینچ پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اس سرگرمی کے مرکزی کردار پرویز ہود بھائی اور ان کا ادارہ بلیک ہول ہیں، جنہوں نے شیریں مزاری کے ساتھ مل کر اس تقریب کا اہتمام کیا۔

کیس کا پس منظر

ایمان مزاری کے خلاف ایف آئی آر جے اے جی برانچ کے ایک افسر نے درج کرائی تھی۔ یہ مقدمہ اُس وقت کے آرمی چیف کے خلاف میڈیا پر انتہائی نازیبا اور توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر قائم کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک رٹ پٹیشن کے دوران ایمان مزاری کو دی گئی ضمانت کو غیر قانونی قرار دیے جانے کا خود اعتراف کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق اب 17 ستمبر کی تاریخ قریب آتے ہی عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے لیے یہ پرانا ہتھکنڈہ دوبارہ آزمایا جا رہا ہے۔

ہود بھائی کے متنازع بیانات

اس مہم کے ماسٹر مائنڈ پرویز ہود بھائی اسلام، نظریہ پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔ ان کے مذہب اور شریعت مخالف بیانات کے کئی ثبوت ریکارڈ پر موجود ہیں۔

ہود بھائی نے حجاب اور پردے پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ برقع اور نقاب پہننے والی لڑکی نارمل نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دو قومی نظریے کی نفی، قرآنی احکامات اور اسلامی بینکاری پر تضحیک آمیز اعتراضات اٹھا کر مسلسل متنازع رہے ہیں۔

شیریں مزاری کی سیاسی قلابازی

اس اقدام نے اینٹی ریاست بیانیے کے کھوکھلے پن اور تضاد کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ کل تک جو شیریں مزاری پرویز ہود بھائی کے نظریات کی سخت ترین ناقد تھیں، آج اپنے مفاد کے لیے اسی ہود بھائی کی جھولی میں جا بیٹھی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ منظر نامہ ثابت کرتا ہے کہ ذاتی اور گروہی مقاصد کے لیے کوئی نظریہ اہمیت نہیں رکھتا۔ عدالت میں قانونی دلائل پیش کرنے کے بجائے بیرونی دباؤ کے ذریعے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی یہ کوشش بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

کوئٹہ کے سریاب روڈ پر چھ مسلح ملزمان نجی بینک سے کیش لوٹ کر فرار ہوگئے، پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

September 15, 2026

بی ایل اے کی کارروائیوں سے خاران میں سڑک اور ماشکیل میں معاشی سرگرمی متاثر ہوئی، جس کا نقصان براہِ راست عام شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔

September 15, 2026

خضدار میں 16 سالہ طالبہ سدرا کے مبینہ اغوا کا دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، تاہم واقعے کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

September 15, 2026

پمز نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ میں بجلی کی خرابی، فائر سیفٹی کی خامیوں اور ہنگامی ردعمل میں تاخیر کو 14 نومولود کی ہلاکت کے اہم عوامل قرار دیا گیا۔

September 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *