ایمان مزاری کیس کی سپریم کورٹ میں 17 ستمبر 2026 کو سماعت مقرر ہے۔ اس اہم پیش رفت سے ٹھیک پہلے اسلام آباد میں ریاست مخالف حلقوں نے باقاعدہ منظم مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
اس پوری مہم کا مقصد سپریم کورٹ کے بینچ پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اس سرگرمی کے مرکزی کردار پرویز ہود بھائی اور ان کا ادارہ بلیک ہول ہیں، جنہوں نے شیریں مزاری کے ساتھ مل کر اس تقریب کا اہتمام کیا۔
کیس کا پس منظر
ایمان مزاری کے خلاف ایف آئی آر جے اے جی برانچ کے ایک افسر نے درج کرائی تھی۔ یہ مقدمہ اُس وقت کے آرمی چیف کے خلاف میڈیا پر انتہائی نازیبا اور توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر قائم کیا گیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک رٹ پٹیشن کے دوران ایمان مزاری کو دی گئی ضمانت کو غیر قانونی قرار دیے جانے کا خود اعتراف کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق اب 17 ستمبر کی تاریخ قریب آتے ہی عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے لیے یہ پرانا ہتھکنڈہ دوبارہ آزمایا جا رہا ہے۔
ہود بھائی کے متنازع بیانات
اس مہم کے ماسٹر مائنڈ پرویز ہود بھائی اسلام، نظریہ پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔ ان کے مذہب اور شریعت مخالف بیانات کے کئی ثبوت ریکارڈ پر موجود ہیں۔
ہود بھائی نے حجاب اور پردے پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ برقع اور نقاب پہننے والی لڑکی نارمل نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دو قومی نظریے کی نفی، قرآنی احکامات اور اسلامی بینکاری پر تضحیک آمیز اعتراضات اٹھا کر مسلسل متنازع رہے ہیں۔
شیریں مزاری کی سیاسی قلابازی
اس اقدام نے اینٹی ریاست بیانیے کے کھوکھلے پن اور تضاد کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ کل تک جو شیریں مزاری پرویز ہود بھائی کے نظریات کی سخت ترین ناقد تھیں، آج اپنے مفاد کے لیے اسی ہود بھائی کی جھولی میں جا بیٹھی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ منظر نامہ ثابت کرتا ہے کہ ذاتی اور گروہی مقاصد کے لیے کوئی نظریہ اہمیت نہیں رکھتا۔ عدالت میں قانونی دلائل پیش کرنے کے بجائے بیرونی دباؤ کے ذریعے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی یہ کوشش بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔