لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

عدلیہ پر دباؤ کا حربہ: ایمان مزاری کیس سے قبل شیریں مزاری اور ہود بھائی سرگرم

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت سے قبل پرویز ہود بھائی کے ادارے بلیک ہول میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے، جسے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایمان مزاری کیس: سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بے نقاب

ایمان مزاری کیس کی 17 ستمبر کو سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل پرویز ہود بھائی کے ادارے میں تقریب رکھی گئی۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ حلقوں کی جانب سے عدلیہ پر دباؤ کے الزامات۔

September 15, 2026

ایمان مزاری کیس کی سپریم کورٹ میں 17 ستمبر 2026 کو سماعت مقرر ہے۔ اس اہم پیش رفت سے ٹھیک پہلے اسلام آباد میں ریاست مخالف حلقوں نے باقاعدہ منظم مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

اس پوری مہم کا مقصد سپریم کورٹ کے بینچ پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اس سرگرمی کے مرکزی کردار پرویز ہود بھائی اور ان کا ادارہ بلیک ہول ہیں، جنہوں نے شیریں مزاری کے ساتھ مل کر اس تقریب کا اہتمام کیا۔

کیس کا پس منظر

ایمان مزاری کے خلاف ایف آئی آر جے اے جی برانچ کے ایک افسر نے درج کرائی تھی۔ یہ مقدمہ اُس وقت کے آرمی چیف کے خلاف میڈیا پر انتہائی نازیبا اور توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر قائم کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک رٹ پٹیشن کے دوران ایمان مزاری کو دی گئی ضمانت کو غیر قانونی قرار دیے جانے کا خود اعتراف کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق اب 17 ستمبر کی تاریخ قریب آتے ہی عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے لیے یہ پرانا ہتھکنڈہ دوبارہ آزمایا جا رہا ہے۔

ہود بھائی کے متنازع بیانات

اس مہم کے ماسٹر مائنڈ پرویز ہود بھائی اسلام، نظریہ پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔ ان کے مذہب اور شریعت مخالف بیانات کے کئی ثبوت ریکارڈ پر موجود ہیں۔

ہود بھائی نے حجاب اور پردے پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ برقع اور نقاب پہننے والی لڑکی نارمل نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دو قومی نظریے کی نفی، قرآنی احکامات اور اسلامی بینکاری پر تضحیک آمیز اعتراضات اٹھا کر مسلسل متنازع رہے ہیں۔

شیریں مزاری کی سیاسی قلابازی

اس اقدام نے اینٹی ریاست بیانیے کے کھوکھلے پن اور تضاد کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ کل تک جو شیریں مزاری پرویز ہود بھائی کے نظریات کی سخت ترین ناقد تھیں، آج اپنے مفاد کے لیے اسی ہود بھائی کی جھولی میں جا بیٹھی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ منظر نامہ ثابت کرتا ہے کہ ذاتی اور گروہی مقاصد کے لیے کوئی نظریہ اہمیت نہیں رکھتا۔ عدالت میں قانونی دلائل پیش کرنے کے بجائے بیرونی دباؤ کے ذریعے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی یہ کوشش بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *