کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دن دہاڑے نجی بینک میں بڑی ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ چھ نقاب پوش مسلح ملزمان اسلحے کے زور پر بینک عملے کو یرغمال بنا کر کیش لوٹنے کے بعد فرار ہوگئے۔
واقعہ تھانہ کچھی بیگ کی حدود میں سریاب روڈ پر واقع ایم سی بی بینک میں پیش آیا۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں ناکہ بندی اور سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
اسلحے کے زور پر یرغمال
پولیس ذرائع کے مطابق دوپہر تقریباً اڑھائی بجے چھ نامعلوم مسلح افراد بینک میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے اسلحہ لہرا کر عملے کو قابو میں کیا اور بینک میں موجود رقم سمیٹنا شروع کردی۔
ڈاکوؤں نے کیش تھیلوں میں بھرا اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ لوٹی گئی رقم کی حتمی مالیت معلوم نہیں ہوسکی۔ بینک انتظامیہ کی جانب سے رقم کا حساب کیا جا رہا ہے۔
واردات کے دوران سکیورٹی گارڈز یا بینک عملے کی جانب سے مزاحمت کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ ملزمان بغیر کسی رکاوٹ کے واردات مکمل کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق ملزمان کا لباس اور حلیہ عسکریت پسند گروہوں کے ارکان سے مشابہ تھا۔ تاہم ملزمان کے پاس کسی گروہ کا جھنڈا موجود نہیں تھا۔
پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج تحویل میں لے لی ہے۔ فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور فرار کے راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔
عناصر کے خلاف کارروائی
بینک ڈکیتی جیسی وارداتیں شہریوں کے جان و مال اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ عوام کی رقم اور کاروباری مراکز کو نشانہ بنانے والے مسلح عناصر قانون اور ریاستی نظام کے لیے بھی سنگین چیلنج ہیں۔
ایسے جرائم پیشہ عناصر شہریوں میں خوف پیدا کرتے اور معمولات زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ان وارداتوں کے پیچھے منظم یا عسکریت پسند عناصر کا تعلق ثابت ہوتا ہے تو یہ معاملہ مزید سنگین نوعیت اختیار کر جائے گا۔
پولیس اور سکیورٹی اداروں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ عوام کے جان و مال اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا امن و امان کے لیے اہم ہے۔