لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

کوئٹہ: نجی بینک میں دن دہاڑے ڈکیتی، مسلح ملزمان لاکھوں روپے لوٹ کر فرار

کوئٹہ کے سریاب روڈ پر چھ مسلح ملزمان نجی بینک سے کیش لوٹ کر فرار ہوگئے، پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔
کوئٹہ میں بینک ڈکیتی، 6 مسلح ملزمان کیش لے اڑے

کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایم سی بی بینک میں دن دہاڑے ڈکیتی ہوئی۔ چھ مسلح ملزمان کیش لوٹ کر فرار ہوگئے، پولیس نے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

September 15, 2026

کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دن دہاڑے نجی بینک میں بڑی ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ چھ نقاب پوش مسلح ملزمان اسلحے کے زور پر بینک عملے کو یرغمال بنا کر کیش لوٹنے کے بعد فرار ہوگئے۔

واقعہ تھانہ کچھی بیگ کی حدود میں سریاب روڈ پر واقع ایم سی بی بینک میں پیش آیا۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں ناکہ بندی اور سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

اسلحے کے زور پر یرغمال

پولیس ذرائع کے مطابق دوپہر تقریباً اڑھائی بجے چھ نامعلوم مسلح افراد بینک میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے اسلحہ لہرا کر عملے کو قابو میں کیا اور بینک میں موجود رقم سمیٹنا شروع کردی۔

ڈاکوؤں نے کیش تھیلوں میں بھرا اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ لوٹی گئی رقم کی حتمی مالیت معلوم نہیں ہوسکی۔ بینک انتظامیہ کی جانب سے رقم کا حساب کیا جا رہا ہے۔

واردات کے دوران سکیورٹی گارڈز یا بینک عملے کی جانب سے مزاحمت کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ ملزمان بغیر کسی رکاوٹ کے واردات مکمل کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق ملزمان کا لباس اور حلیہ عسکریت پسند گروہوں کے ارکان سے مشابہ تھا۔ تاہم ملزمان کے پاس کسی گروہ کا جھنڈا موجود نہیں تھا۔

پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج تحویل میں لے لی ہے۔ فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور فرار کے راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔

عناصر کے خلاف کارروائی

بینک ڈکیتی جیسی وارداتیں شہریوں کے جان و مال اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ عوام کی رقم اور کاروباری مراکز کو نشانہ بنانے والے مسلح عناصر قانون اور ریاستی نظام کے لیے بھی سنگین چیلنج ہیں۔

ایسے جرائم پیشہ عناصر شہریوں میں خوف پیدا کرتے اور معمولات زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ان وارداتوں کے پیچھے منظم یا عسکریت پسند عناصر کا تعلق ثابت ہوتا ہے تو یہ معاملہ مزید سنگین نوعیت اختیار کر جائے گا۔

پولیس اور سکیورٹی اداروں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ عوام کے جان و مال اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا امن و امان کے لیے اہم ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *