نئی دہلی: برکس سربراہی اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں دی گئی ضیافت میں صرف سبزی خور کھانے پیش کیے جانے پر بھارت میں سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی میزبانی میں ہونے والی ضیافت میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ہونے والی ضیافت میں متعدد روایتی بھارتی سبزی خور کھانے شامل تھے۔ مینو میں پنیر لبابدار، گُچھی مارمک، باجرے کا پلاؤ، بیٹ روٹ رائتہ، جلیبی اور شہتوت کی فرنی سمیت مختلف پکوان پیش کیے گئے۔
اپوزیشن کا اعتراض
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ضیافت کے بعد کہا کہ بھارت میں 80 فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی نان ویج کھانوں کو ملک کی غذائی ثقافت کا اہم حصہ قرار دیا۔
کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق بھارت ایک متنوع ملک ہے، جہاں مختلف علاقوں اور برادریوں میں کھانے کی الگ الگ روایات پائی جاتی ہیں۔
اسی طرح اے آئی ایم آئی ایم رہنما وارس پٹھان نے کہا کہ بھارت کی غذائی ثقافت میں مٹن، چکن اور مچھلی بھی اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمی رہنماؤں کے لیے غیر سبزی خور کھانے بھی مینو میں شامل کیوں نہیں کیے گئے۔
بی جے پی کا اپوزیشن کو جواب
دوسری جانب حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کر دیا۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ غیر ضروری طور پر کھانے کے مینو کو سیاسی مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔
بی جے پی کی جانب سے کہا گیا کہ ضیافت میں بھارتی سبزی خور کھانوں کی مختلف علاقائی روایات کو اجاگر کیا گیا اور غیر ملکی مہمانوں نے کھانے سے لطف اٹھایا۔
یوں برکس سربراہی اجلاس کی ضیافت کا سبزی خور مینو بھارت میں سفارتی اور سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ معاملہ اب صرف کھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارت کی مختلف غذائی اور ثقافتی روایات کی نمائندگی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
دیکھیے: بھارت پر 100 فیصد امریکی ٹیرف کا خطرہ، روسی تیل نے مودی کی مشکل بڑھا دی