باخبر ذرائع نے ایک اہم پیش رفت کا انکشاف کیا ہے۔ افغان طالبان حکومت نے یمن کے حوثیوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا ہے۔
یہ رابطے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے کیے گئے ہیں۔ طالبان نے حوثیوں سے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب پر حملوں میں شدت لائیں۔
پاکستان کو الجھانے کی کوشش
ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستان کو یمن تنازع میں گھسیٹنا ہے۔ کابل حکومت پاکستان پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔
اس حربے سے پاکستان کی عسکری توجہ پاک افغان سرحد سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یوں اسلام آباد کی سیکیورٹی ترجیحات تقسیم ہو سکتی ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی آپریشنز
ملک بھر میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور بی ایل اے کے خلاف کامیاب آپریشنز جاری ہیں۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان ان گروہوں پر دباؤ کم کرنا چاہتے ہیں۔
یمن میں نیا محاذ کھلنے سے ان عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ کابل حکومت کی یہ کوشش ان پراکسیز کو گنجائش دینے کے مترادف ہے۔
علاقائی امن کو لاحق خطرات
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت افغانستان کے ساتھ کسی جنگ میں ملوث نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں افغان حدود کے اندر کوئی کارروائی بھی نہیں کی گئی۔
اس صورتحال کے باوجود تیسرے ملک کو نشانہ بنانا بدنیتی کا ثبوت ہے۔ سعودی عرب کے خلاف کشیدگی بھڑکانے کی یہ کوشش خطے کے لیے نقصان دہ ہے۔
دیکھیے: ہیبت اللہ کا خفیہ خط: دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا انکشاف