افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کا ایک خفیہ مکتوب سامنے آیا ہے۔ اس خط میں وزارتِ دفاع کو دہشت گردوں کی مدد کا حکم دیا گیا ہے۔
مکتوب کے مطابق طالبان حکومت نے اپنی ریاستی مشینری کو شدت پسندوں کے لیے متحرک کر دیا ہے۔ ان عسکریت پسندوں کو سیکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون بھی دیا جائے گا۔
خفیہ فضائی سفر
دستاویز میں اہم دہشت گرد رہنماؤں کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں شیخ طلحہ العراقی اور شیخ مولوی عبداللہ محمود نمایاں ہیں۔ اس فہرست میں شیخ عبدالرحمن اور شیخ ابو اخلاص المصری بھی شامل ہیں۔

شیخ عبدالحق ترکستانی اور شیخ عبدالغفار نقشبندی کو بھی سہولیات دی جائیں گی۔ طالبان امیر نے ان تمام افراد کو خفیہ فضائی پروازیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی کی تربیت
اس مکتوب میں عسکریت پسندوں کی تکنیکی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کو ماہر عملہ تعینات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ ماہرین شدت پسندوں کو بارود سازی کی جدید تربیت دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ڈرون طیارے تیار کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔ امیر کے دفتر نے اس تمام عمل کی ماہانہ رپورٹ بھی طلب کی ہے۔
خطے کے لیے سنگین خطرات
یہ مکتوب ثابت کرتا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا مستقل ٹھکانہ بن چکا ہے۔ کابل حکومت عسکریت پسندوں کو صرف پناہ ہی نہیں دے رہی۔ وہ ان کی نقل و حرکت اور عسکری صلاحیت میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اس سے سرحد پار دہشت گردی کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دیکھیے: بھارت کی پرانی روش برقرار