خیبرپختونخوا ایک بار پھر آگ اور خون کے بے رحم بھنور میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کوہاٹ کی پولیس لائنز مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے المناک خودکش دھماکے نے درجنوں گھرانوں کے چراغ گل کر دیے۔ پولیس کے بہادر جوان اور نہتے شہری اپنی ہی عبادت گاہوں میں سجدہ ریز حالت میں خاک و خون میں تڑپ اٹھے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ پشاور، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور باجوڑ سے لے کر کرک و کوہاٹ تک ہر شہر دہشت گردی کی نئی لہر کا شکار بن چکا ہے۔
سکیورٹی اہلکاروں کے روزانہ اٹھتے جنازے اور شہریوں کی بے گناہ موت کسی بھی باضمیر ریاست اور حساس حکومت کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھی۔ مگر خیبرپختونخوا کے تخت پر براجمان قیادت کی سرگرمیاں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انسانی جانوں کی قیمت ان کے سیاسی ایجنڈے کے سامنے بالکل بے وقعت ہو چکی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے اس بدقسمت صوبے پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کے مزے لوٹ رہی ہے۔ صوبے کے غیور عوام نے بار بار پی ٹی آئی کو اس امید پر اقتدار کا ہما سونپا کہ وہ ان کے سروں سے خوف کے بادل ہٹائیں گے، پولیس کو جدید ترین وسائل سے لیس کریں گے اور ان کے وسائل کو ان کے امن اور خوشحالی پر خرچ کریں گے۔ لیکن عملی میدان میں تصویر بالکل برعکس اور شرمناک ہے۔
جس وقت صوبے کے اسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے تھے اور مائیں اپنے جوان سال بیٹوں کی لاشوں سے لپٹ کر دھاڑیں مار رہی تھیں، اس وقت پشاور کا وزیر اعلیٰ ہاؤس سیاسی سازشوں، احتجاجی اجلاسوں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی حکمت عملیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ عوامی ٹیکسوں پر پلنے والی صوبائی مشینری، سرکاری وسائل اور سرکاری گاڑیاں عوام کے جان و مال کے تحفظ کے بجائے وفاق کے خلاف دباؤ ڈالنے کی نذر کی جا رہی ہیں۔
دوغلا پن اور مفاد پرستی
اس سیاسی کھیل کا سب سے المناک اور شرمناک پہلو نام نہاد پشتون قوم پرست قیادت کا مجرمانہ کردار ہے۔ محمود خان اچکزئی اور ان کے حواری، جو دہائیوں سے پختونوں کے خون کے سوداگر بن کر حقوق کی جنگ کا ڈھونگ رچاتے رہے ہیں، آج اسی اقتدار پرست محفل کی زینت بنے بیٹھے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پختون دھرتی پر آنچ آئی، ان نام نہاد قائدین نے پوائنٹ اسکورنگ کی اور ریاستی اداروں پر انگلیاں اٹھائیں۔
مگر آج جب ان کے سامنے پختون جوانوں، افسروں اور نمازیوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے، تو ان کی تمام تر وفاداری اور ہمدردی صرف ایک سیاسی قیدی اور لانگ مارچ کے اسٹیج تک سمٹ چکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پشتونوں کے خود ساختہ وکیلوں کی زبانوں پر اس اندوہناک قتل عام کے وقت تالے کیوں لگ جاتے ہیں؟ کیا پختونوں کا خون صرف اسی وقت قیمتی ہوتا ہے جب اسے ریاست کے خلاف جلسوں میں نعروں کے طور پر بیچا جا سکے؟
لاوارث صوبہ
حکمرانی محض نعرے بازی، جذباتی پریس کانفرنسوں اور فیس بک پر بیانات داغنے کا نام نہیں ہوتی۔ حکمرانی ریاست کے شہریوں کے سر پر سایہ بننے، ان کے امن کو بحال رکھنے اور ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کی ٹھوس ذمہ داری ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے خیبرپختونخوا کو عملاً ایک لاوارث صوبہ بنا کر چھوڑ دیا ہے۔ ایک طرف پولیس فورس بغیر جدید ساز و سامان کے دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر ہے اور دوسری طرف ان کا صوبائی چیف ایگزیکٹو صوبے کے تمام انتظامی معاملات کو بالائے طاق رکھ کر وفاق پر چڑھائی کے منصوبے بنا رہا ہے۔
عوام نے ووٹ اس لیے نہیں دیا تھا کہ وہ روزانہ جنازے اٹھائیں اور ان کے منتخب وزراء اسلام آباد کے راستوں پر سیاسی ڈرامے سجائیں۔ تاریخ ہمیشہ حکمرانوں کی ترجیحات کو یاد رکھتی ہے، اور اگر پی ٹی آئی کی قیادت نے فوری طور پر اپنے احتجاجی جنون کو لگام دے کر صوبے کے امن و امان کی بحالی اور اپنے عوام کی حفاظت کو اولیت نہ دی، تو تاریخ انہیں پختون دھرتی کے سب سے غیر سنجیدہ اور بے حس حکمرانوں کے طور پر یاد رکھے گی۔