لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

لہو میں ڈوبا پختونخوا اور حکمران جماعت کا احتجاجی جنون

کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے کے بعد خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال بگڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے امن کے بجائے اسلام آباد مارچ کو ترجیح دینے پر صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں بدامنی اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ

خیبرپختونخوا میں بدامنی اور کوہاٹ سانحے کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی لانگ مارچ تیاریوں پر شدید عوامی تنقید۔ حکومتی ترجیحات پر اہم سوالات اٹھ گئے۔

September 18, 2026

خیبرپختونخوا ایک بار پھر آگ اور خون کے بے رحم بھنور میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کوہاٹ کی پولیس لائنز مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے المناک خودکش دھماکے نے درجنوں گھرانوں کے چراغ گل کر دیے۔ پولیس کے بہادر جوان اور نہتے شہری اپنی ہی عبادت گاہوں میں سجدہ ریز حالت میں خاک و خون میں تڑپ اٹھے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ پشاور، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور باجوڑ سے لے کر کرک و کوہاٹ تک ہر شہر دہشت گردی کی نئی لہر کا شکار بن چکا ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں کے روزانہ اٹھتے جنازے اور شہریوں کی بے گناہ موت کسی بھی باضمیر ریاست اور حساس حکومت کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھی۔ مگر خیبرپختونخوا کے تخت پر براجمان قیادت کی سرگرمیاں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انسانی جانوں کی قیمت ان کے سیاسی ایجنڈے کے سامنے بالکل بے وقعت ہو چکی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے اس بدقسمت صوبے پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کے مزے لوٹ رہی ہے۔ صوبے کے غیور عوام نے بار بار پی ٹی آئی کو اس امید پر اقتدار کا ہما سونپا کہ وہ ان کے سروں سے خوف کے بادل ہٹائیں گے، پولیس کو جدید ترین وسائل سے لیس کریں گے اور ان کے وسائل کو ان کے امن اور خوشحالی پر خرچ کریں گے۔ لیکن عملی میدان میں تصویر بالکل برعکس اور شرمناک ہے۔

جس وقت صوبے کے اسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے تھے اور مائیں اپنے جوان سال بیٹوں کی لاشوں سے لپٹ کر دھاڑیں مار رہی تھیں، اس وقت پشاور کا وزیر اعلیٰ ہاؤس سیاسی سازشوں، احتجاجی اجلاسوں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی حکمت عملیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ عوامی ٹیکسوں پر پلنے والی صوبائی مشینری، سرکاری وسائل اور سرکاری گاڑیاں عوام کے جان و مال کے تحفظ کے بجائے وفاق کے خلاف دباؤ ڈالنے کی نذر کی جا رہی ہیں۔

دوغلا پن اور مفاد پرستی

اس سیاسی کھیل کا سب سے المناک اور شرمناک پہلو نام نہاد پشتون قوم پرست قیادت کا مجرمانہ کردار ہے۔ محمود خان اچکزئی اور ان کے حواری، جو دہائیوں سے پختونوں کے خون کے سوداگر بن کر حقوق کی جنگ کا ڈھونگ رچاتے رہے ہیں، آج اسی اقتدار پرست محفل کی زینت بنے بیٹھے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پختون دھرتی پر آنچ آئی، ان نام نہاد قائدین نے پوائنٹ اسکورنگ کی اور ریاستی اداروں پر انگلیاں اٹھائیں۔

مگر آج جب ان کے سامنے پختون جوانوں، افسروں اور نمازیوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے، تو ان کی تمام تر وفاداری اور ہمدردی صرف ایک سیاسی قیدی اور لانگ مارچ کے اسٹیج تک سمٹ چکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پشتونوں کے خود ساختہ وکیلوں کی زبانوں پر اس اندوہناک قتل عام کے وقت تالے کیوں لگ جاتے ہیں؟ کیا پختونوں کا خون صرف اسی وقت قیمتی ہوتا ہے جب اسے ریاست کے خلاف جلسوں میں نعروں کے طور پر بیچا جا سکے؟

لاوارث صوبہ

حکمرانی محض نعرے بازی، جذباتی پریس کانفرنسوں اور فیس بک پر بیانات داغنے کا نام نہیں ہوتی۔ حکمرانی ریاست کے شہریوں کے سر پر سایہ بننے، ان کے امن کو بحال رکھنے اور ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کی ٹھوس ذمہ داری ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے خیبرپختونخوا کو عملاً ایک لاوارث صوبہ بنا کر چھوڑ دیا ہے۔ ایک طرف پولیس فورس بغیر جدید ساز و سامان کے دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر ہے اور دوسری طرف ان کا صوبائی چیف ایگزیکٹو صوبے کے تمام انتظامی معاملات کو بالائے طاق رکھ کر وفاق پر چڑھائی کے منصوبے بنا رہا ہے۔

عوام نے ووٹ اس لیے نہیں دیا تھا کہ وہ روزانہ جنازے اٹھائیں اور ان کے منتخب وزراء اسلام آباد کے راستوں پر سیاسی ڈرامے سجائیں۔ تاریخ ہمیشہ حکمرانوں کی ترجیحات کو یاد رکھتی ہے، اور اگر پی ٹی آئی کی قیادت نے فوری طور پر اپنے احتجاجی جنون کو لگام دے کر صوبے کے امن و امان کی بحالی اور اپنے عوام کی حفاظت کو اولیت نہ دی، تو تاریخ انہیں پختون دھرتی کے سب سے غیر سنجیدہ اور بے حس حکمرانوں کے طور پر یاد رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *