کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش حملے میں ملوث ایک بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان شہری کا کوہاٹ حملے میں ملوث ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق خدشات مزید نمایاں ہوتے ہیں۔
حالیہ حملے کے بعد کوہاٹ پولیس لائنز میں تقریباً 21 گھنٹے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہا، جس میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
افغان سرزمین کا استعمال
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان ترجمان نے بین الاقوامی میڈیا پر دہشت گردی کی افغان سرپرستی سے توجہ ہٹانے کے لیے مختلف دعوے کیے، تاہم کوہاٹ حملے میں افغان شہری کی شناخت ان دعووں کے برعکس ایک اہم ثبوت ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ غلام خان کے قریب افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 15 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال میں بھی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 5 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کرم بارڈر پر بھی دہشت گردوں کے ایک گروہ نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی، تاہم چوکس دستوں نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا کر دیا۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ تازہ بین الاقوامی رپورٹنگ میں بھی پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اسی معاملے پر اختلاف کا ذکر کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کے معاملے پر ہونے والی حالیہ بحث میں چین نے بھی افغانستان میں داعش، القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان سمیت دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔ چینی مندوب نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مزید مؤثر اقدامات کرے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف عالمی رپورٹس میں بھی افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں اور خطے کی سلامتی کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ افغان طالبان رجیم نے افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق افغان سرزمین پر جنگجوؤں کی بھرتی، تربیت اور انہیں اسلحہ فراہم کیے جانے کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے باوجود اس مسئلے پر طالبان حکومت کی جانب سے صرف اظہارِ افسوس کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔