پاکستان کے دورے پر آئے ازبک میڈیا وفد نے دونوں ممالک کے تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو انتہائی مضبوط قرار دیا ہے۔ معروف صحافی فہد حسین کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ازبک صحافی اسماعیل افقارجان اور مخینور سلطانوا نے کہا کہ پاکستان میں انہیں اپنے گھر جیسا احساس ہوا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کی تعداد اب ہفتہ وار تین ہو چکی ہے۔ تمام پروازیں مکمل مسافروں کے ساتھ چل رہی ہیں، جو بڑھتے ہوئے باہمی رابطوں کا ثبوت ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کاروباری شراکت داری میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت 4 ہزار سے زائد کاروباری ادارے باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔
سال 2025 میں ازبکستان پاکستان کے نمایاں تجارتی شراکت داروں میں شامل رہا ہے۔ پاکستان ازبکستان سے کیمیکلز، تیار مصنوعات، خوراک اور زرعی اجناس درآمد کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر بھی شادیاں اور خاندانی روابط قائم ہو رہے ہیں۔
علاقائی روابط
ازبک صحافیوں نے واضح کیا کہ پاکستان وسطی ایشیا کو گرم پانیوں تک رسائی کی بہترین سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی انقلاب لا سکتا ہے۔ اس منصوبے سے دونوں خطوں کے مابین سامان کی ترسیل انتہائی تیز اور سستی ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تجارتی اور مواصلاتی رابطے کے لیے افغانستان میں مکمل امن اور استحکام بنیادی شرط ہے۔
افغانستان میں امن قائم ہونے سے تیل، گیس، بجلی کی پائپ لائنز اور ٹرانسپورٹ کے دیگر منصوبے تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ پرامن افغانستان سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور پاکستان کے مابین تجارت کے وسیع راستے کھلیں گے۔
ثقافت، زبان اور میڈیا کا کردار
ازبک میڈیا کے نمائندوں نے پاکستان کے موسم، قدرتی حسن اور ہریالی کی دل کھول کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافت، مذہب اور زبان کے اعتبار سے گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔
اردو اور ازبک زبان میں کئی مشترکہ الفاظ موجود ہیں۔ اس لیے دونوں ممالک کے شہری ایک دوسرے کی زبان آسانی سے سمجھ اور بول سکتے ہیں۔
صحافیوں نے دورہ پاکستان کے دوران تاریخی مقامات، اسپتالوں اور کھانوں سے متعلق سوشل میڈیا مواد تیار کیا۔
اس مواد کو ازبک عوام کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقائق پر مبنی صحافت اور دونوں ممالک کے صحافیوں کے باہمی دورے خطے کے مسائل اور عوامی آگاہی بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔