مالاکنڈ میں پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی شکیل خان کے مسلح محافظوں نے قانون نافذ کرنے والے ادارے لیویز پر فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں قانون ساز کی موجودگی میں محافظوں کو ریاستی وردی پوش اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں نے مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
ریاست مخالف پالیسی
عوامی اور سیاسی حلقوں کے مطابق یہ واقعہ کوئی اتفاقیہ تنازع نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے اسی مزاج کا تسلسل ہے جو ریاستی اداروں سے ٹکراؤ پر مبنی ہے۔ ملکی دفاع اور امن کے ضامن سیکیورٹی اداروں کے خلاف صف آرا ہونا اس جماعت کا مستقل وتیرہ بن چکا ہے۔
جنید اکبر کی اشتعال انگیزی کے بعد مالاکنڈ میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے شکیل خان کی موجودگی میں ان کے گارڈز کی لیویز اہلکاروں پر فائرنگ، دو اہلکار زخمی فائرنگ کی ویڈیوز سامنے آنے کےبعدشکیل خان سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج گرفتاریوں اور قانونی کارروائی کا آغاز ہو گیا۔ 👇👇 pic.twitter.com/siNmSsjZGi
— Waqar Satti 🎖️🇵🇰 (@waqarsatti) September 20, 2026
ایک طرف خیبرپختونخوا کی قیادت اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ دوسری طرف صوبے میں امن قائم رکھنے والے لیویز اہلکاروں کو گولیاں ماری جا رہی ہیں۔ یہ روش ثابت کرتی ہے کہ جماعت سیاسی مقاصد کے لیے قانون اور ریاست کو چیلنج کرنے سے گریز نہیں کرتی۔
قانون کی بالادستی
مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاستی محافظوں پر حملہ ریاست کی خود مختاری اور رٹ پر براہِ راست حملہ ہے۔ وردی پر گولی چلانے والوں کو کسی بھی سیاسی رعایت کے بغیر کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امن وامان تباہ کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے، تاکہ قانون کو ذاتی مفادات کے لیے پامال کرنے کی روایت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔
دیکھیے: اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش برداشت نہیں ہوگی: خواجہ آصف