کابل کے عبداللہ بن مسعود جوائنٹ کمبیٹ ٹریننگ سینٹر میں 1,000 سے زائد طالبان اہلکاروں کی فراغت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طالبان مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف قاری فصیح الدین فطرت نے ایک متنازع دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والے گروہ اور رہنما “افغان” نہیں ہیں۔
فصیح الدین فطرت نے اپنے خطاب کے دوران یہ الزام بھی عائد کیا کہ طالبان کے خلاف متحرک اپوزیشن گروپس اور مسلح محاذوں کو براہِ راست پاکستان کی جانب سے مالی امداد اور جدید اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان میں آزادی محاذ کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
طالبان کمانڈر کے اس بیان پر افغان عوام اور تجزیہ کاروں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ افغان نیشنل آرمی کی 215ویں کور کے سابق کمانڈر سمیع سادات کا تعلق کابل سے ہے اور سابق قائم مقام وزیرِ دفاع یاسین ضیاء بھی شکردرہ، کابل میں پیدا ہوئے۔ طالبان کا ان افغان رہنماؤں کو غیر ملکی قرار دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے اکمل امیر اور حسیب پنجشیری جیسے مقامی افغان کمانڈروں کی ہلاکتوں کا جشن منانا اور پھر انہیں غیر ملکی قرار دینا ان کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان عوام کے مطابق 29 سے زائد صوبوں کے باشندے طالبان کی پالیسیوں کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں، جنہیں محض غیر ملکی قرار دے کر اندرونی ناکامیوں کو چھپایا نہیں جا سکتا۔





