خیبرپختونخوا اس وقت ایک حساس ترین دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں ایک جانب دہشت گردی کے خلاف ریاست کا وجودی معرکہ جاری ہے تو دوسری طرف سیاسی سرگرمیاں اور محاذ آرائی اپنے عروج پر ہیں۔ ضلع ہنگو میں دہشت گردوں کے ساتھ شدید جھڑپ کے دوران پاک فوج کے دو نوجوان افسران، کیپٹن ابوذر فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر سمیت چھ اہلکاروں کی شہادت نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ وطن کا دفاع کتنا گراں قدر خراج مانگ رہا ہے۔
پشاور میں شہداء کی نمازِ جنازہ کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، کور کمانڈر پشاور اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام صف آرا دکھائی دیے، لیکن اس قومی اور اخلاقی فریضے کے دوران صوبے کے انتظامی سربراہ کی عدم موجودگی نے ایک گہرا خلا چھوڑ دیا۔
ریاستی تقاضے
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ قربانیاں دینے والے محافظوں کے آخری سفر میں منتخب قیادت کا فقدان محسوس کیا گیا۔ اس سے قبل کوہاٹ پولیس لائنز حملے میں شہید ہونے والے ایس پی ٹریفک اکبر شنواری کے جنازے میں بھی صوبائی کابینہ کی طرف سے اسی نوع کی لاتعلقی دیکھنے میں آئی تھی۔ ایک ایسے خطے میں جہاں پولیس اور سیکیورٹی ادارے فرنٹ لائن پر مسلسل خون دے رہے ہوں، وہاں حکومتی نمائندوں کی اس سطح پر غیر حاضری محض پروٹوکول کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ فورسز کے مورال اور ریاستی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ مؤقف معروضی حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ سیاسی یا نظریاتی اختلافات جمہوریت کا حسن ہو سکتے ہیں، لیکن ریاست کا دفاع کرنے والے شہداء کسی ایک جماعت، حکومت یا خطے کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے ہوتے ہیں۔ جب قربانی سانجھی ہے تو غم اور اعتراف میں تفریق کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
دھرنے اور امن
اس پورے منظرنامے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جس وقت سیکیورٹی اہلکار خاک و خون میں غلطاں ہو رہے ہیں، صوبائی حکومتی مشینری کا ایک بڑا حصہ دھرنوں، احتجاجی تحریکوں اور لانگ مارچ کی تیاریوں میں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یقیناً جمہوری نظام میں پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن جب یہ حق امن و امان کے بنیادی فرض پر حاوی ہو جائے تو عوامی تحفظ کے تقاضے مجروح ہوتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے حالات کا تقاضا ہے کہ تمام تر توجہ اور انتظامی صلاحیتیں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور سیکیورٹی اداروں کی پشت پناہی پر مرکوز کی جائیں، نہ کہ اسلام آباد کی طرف رخ کرنے والی سیاسی صف بندیوں پر۔
ریاستی منصب صرف اقتدار یا سیاسی طاقت کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ عوام اور ان کے محافظوں کے دکھ سکھ میں ان کا نمائندہ بننے کا عہد ہے۔ جب ایک گھر کا کفیل، ایک بوڑھے باپ کا سہارا اور ایک ماں کا لختِ جگر وطن پر نچھاور ہو جائے تو حکومتی سربراہ کا اس کے سرہانے کھڑا ہونا روایتی رسم نہیں بلکہ ریاستی تسلسل اور احترام کی ناگزیر علامت ہوتا ہے۔
سیاسی مصروفیات، جماعتی بیانیے اور اقتدار کے جھگڑے اپنی جگہ برقرار رہ سکتے ہیں، لیکن تاریخ ہمیشہ یہ یاد رکھتی ہے کہ نازک موڑ پر ترجیح کس کو دی گئی۔ آج خیبرپختونخوا کے عوام، شہداء کے اہلِ خانہ اور امن کے خواہاں شہری یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا اپنے ہی صوبے کے جانبازوں کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے چند لمحے نکالنا بھی ناممکن ہو چکا ہے؟
دیکھیے: پولیس وین سے سڑک کنارے تک