لکشمی چوک کی سڑک پر پولیس وین سے اترتے اور پھر سڑک کنارے بیٹھتے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مناظر نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی طاقت کا اظہار سڑکوں پر کس حد تک ہونا چاہیے اور اس کی قیمت عام شہری کیوں ادا کرے؟
سہیل آفریدی ان دنوں پنجاب میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ لاہور کے لکشمی چوک میں پارٹی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے دوران وہ پولیس وین میں بیٹھ گئے۔ بعد ازاں انہیں لکشمی چوک پر چھوڑ دیا گیا اور وہ سڑک کنارے بیٹھ گئے۔ واقعے پر وزیراعلیٰ اور پنجاب حکام کے مؤقف بھی مختلف سامنے آئے۔
احتجاجی سیاست
لکشمی چوک کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر احتجاج میں شریک افراد کی تعداد اور پی ٹی آئی کے سیاسی دعووں پر بھی بحث ہوئی۔ تاہم کسی ایک مقام کے مناظر سے مجموعی عوامی حمایت کا حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
البتہ ایک بات واضح ہے۔ جب ایک صوبے کا وزیراعلیٰ دوسرے صوبے میں پارٹی احتجاج کی قیادت کرتا ہے تو اس کے سیاسی اور انتظامی اثرات پر سوال اٹھتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب احتجاج کے دوران پولیس اور سیاسی کارکن آمنے سامنے ہوں۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاج اور مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اسے پرامن مارچ قرار دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد سیاسی اور آئینی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔
وزیرآباد واقعے نے بھی سوال بڑھا دیے
سہیل آفریدی کے پنجاب میں سیاسی دورے کے دوران وزیرآباد کا واقعہ بھی سامنے آیا۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ایک شخص انہیں قتل کرنے کی نیت سے بھیجا گیا تھا۔ ان کے سکیورٹی عملے نے مذکورہ شخص کو پکڑا اور اس سے پستول برآمد کیا۔
تاہم گوجرانوالہ پولیس نے اس دعوے کو مسترد کردیا۔ پولیس کے مطابق زیرحراست شخص سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کانسٹیبل تھا اور اس نے اپنی شناخت بھی ظاہر کی تھی۔ یوں ایک ہی واقعے پر وزیراعلیٰ اور پولیس کا مؤقف ایک دوسرے سے مختلف رہا۔
یہ اختلاف اس لیے بھی اہم ہے کہ سیاسی کشیدگی کے ماحول میں کسی سنگین الزام کی فوری تشہیر صورتحال کو مزید حساس بنا سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں شواہد اور سرکاری تحقیقات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
27 ستمبر کا مارچ، اصل امتحان
اب توجہ 27 ستمبر پر مرکوز ہے۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے۔ سہیل آفریدی بھی اس احتجاج کے لیے کارکنوں کو متحرک کر رہے ہیں۔ وہ بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کے دعوے کرچکے ہیں۔
دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضے کا قانونی حق حاصل نہیں۔ عدالت نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو سرکاری وسائل اور مشینری احتجاج کے لیے استعمال نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
یہ ہدایت پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم انتظامی سوال بھی سامنے لاتی ہے۔ اگر احتجاج میں صوبائی حکومت کے وسائل یا سرکاری مشینری استعمال ہوتی ہے تو سیاسی سرگرمی اور حکومتی ذمہ داری کے درمیان فرق کیسے برقرار رکھا جائے گا؟
بوجھ عام شہری پر کیوں؟
بڑے سیاسی اجتماعات کا اثر صرف کارکنوں تک محدود نہیں رہتا۔ اہم شاہراہیں بند ہوں تو دفاتر جانے والے ملازمین، کاروباری افراد، طلبہ، مسافر اور مریض متاثر ہوتے ہیں۔
اسلام آباد میں 27 ستمبر کے مارچ کے خلاف دائر درخواست میں بھی شہری زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات کا مؤقف سامنے آیا۔ عدالت نے اس معاملے پر سماعت بھی کی۔
پی ٹی آئی کی قیادت نے پرامن احتجاج کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اب اصل امتحان اس وعدے پر عمل درآمد کا ہے۔ سیاسی قیادت اگر احتجاج کو منظم رکھتی ہے، عوامی راستے کھلے رکھتی ہے اور سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمی سے الگ رکھتی ہے تو کشیدگی کم رہ سکتی ہے۔
ماضی کا تجربہ بھی سامنے
پاکستان میں سیاسی احتجاج کے دوران شہری اور سرکاری املاک کے متاثر ہونے کی مثالیں موجود ہیں۔ 9 مئی 2023 کے واقعات میں لاہور کے جناح ہاؤس، راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے گیٹ اور دیگر سرکاری و فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔ ان واقعات کے بعد مقدمات، گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں ہوئیں۔
اسی پس منظر میں 27 ستمبر کا احتجاج صرف پی ٹی آئی کے لیے سیاسی طاقت کے اظہار کا موقع نہیں ہوگا۔ یہ اس بات کا امتحان بھی ہوگا کہ پارٹی اپنی احتجاجی سیاست کو کس حد تک منظم اور پرامن رکھتی ہے۔
احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن اس حق کے ساتھ شہری ذمہ داری بھی جڑی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر عام شہری کی آمدورفت، کاروبار، تعلیم اور علاج متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
آخرکار سیاسی طاقت کا پیمانہ صرف سڑک پر موجود لوگوں کی تعداد نہیں۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ احتجاج کے دوران کتنے شہریوں کی زندگی متاثر ہوئی، کتنی شاہراہیں بند ہوئیں اور سیاسی قیادت نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے۔ 27 ستمبر کو یہی پہلو پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کے لیے سب سے اہم سوال بن کر سامنے آسکتا ہے۔