متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملک کو موجودہ فرسودہ حالت میں مزید نہیں چلایا جا سکتا۔ انتظامی اصلاحات کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آبادی کے بڑھتے دباؤ کے حل کے لیے زیادہ سے زیادہ یونٹس درکار ہیں۔ عوام کے مسائل دہلیز پر حل کرنے کا یہی ایک راستہ ہے۔ انہوں نے پانچ سال میں شفاف مردم شماری کا بھی مطالبہ کیا۔
جاگیردارانہ نظام
ان کا کہنا تھا کہ جاگیردارانہ جمہوریت پاکستان کا مستقبل نہیں بن سکتی۔ موروثی اور روایتی سیاست کے خاتمے کا وقت آ چکا ہے۔ ملک میں آئین کی مکمل بالادستی ناگزیر ہے۔ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لائے بغیر عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔
خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ مسائل کا حل قانون سازی میں ہے۔ وہ سڑکوں کے بجائے پارلیمان کے ذریعے فیصلے کرانے پر یقین رکھتے ہیں۔ شہری سندھ کے حقوق اور شفاف نظام کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔ ایم کیو ایم انتظامی اصلاحات کی جدوجہد جاری رکھے گی۔
دیکھیے: نئے صوبے آخر کیوں ضروری ہیں؟