آریانا افغان ایئرلائنز نے کابل اور نئی دہلی کے درمیان باقاعدہ کارگو پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان انتظامیہ کے ماتحت ایئرلائن کے سربراہ ملا بخت الرحمن شرافت کے مطابق اس سلسلے میں چارٹرڈ کارگو طیارہ کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ چکا ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اس سروس کے ذریعے شعبہ صحت سے متعلق ایسی اشیا منتقل کی جائیں گی جنہیں عام مسافر طیاروں میں لانا ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم دفاعی اور سفارتی حلقوں میں اس اقدام کو گہری تشویش اور تفتیشی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
طبی امداد کا دعویٰ
طالبان انتظامیہ کی جانب سے صحت کے شعبے کو ترجیح قرار دینا زمینی حقائق کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ افغانستان کا عام شہری اس وقت بنیادی طبی سہولیات سے بھی محروم ہے، جس کے باعث مہنگی فضائی کارگو سروس کا بوجھ اٹھانا عام افراد کی دسترس سے باہر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مریضوں کی منتقلی یا ادویات کی فراہمی کا سلسلہ شروع بھی ہوا، تو اس کے ثمرات صرف طالبان کے اعلیٰ عہدیداروں اور مراعات یافتہ طبقے تک محدود رہیں گے۔ عام عوام کے نام پر شروع کی جانے والی یہ سروس بنیادی معاشی منطق پر پوری نہیں اترتی۔
خطے میں سکیورٹی خدشات
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کا راستہ مسدود ہونے کے بعد اس نئی فضائی راہداری کو بھارت کی جانب سے افغانستان میں غیر اعلانیہ اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس بات کا قوی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ راستہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے شدت پسند گروہوں تک اسلحہ و بارود پہنچانے کے لیے ایک ممکنہ پردے کے طور پر کام آ سکتا ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف اپناتا رہا ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف پراکسی جنگ اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جسے بھارتی حمایت بھی حاصل رہتی ہے۔
ایسے حالات میں اقتصادی حقائق سے متصادم فضائی منصوبوں کا اچانک آغاز خطے میں سکیورٹی کے تحفظات کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ: عالمی رپورٹس میں سنگین خطرات کی تصدیق