جی 7 ممالک نے ایران سے حوثیوں کی حمایت اور اسلحہ فراہمی ختم کرنے جبکہ حوثیوں سے سعودی عرب اور تجارتی جہازوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 22, 2026

مظفرآباد میں تمام مارکیٹس، سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے معمول کے مطابق فعال ہیں، منفی پراپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔

September 22, 2026

مصطفیٰ کمال نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو بہتر حکمرانی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کراچی کے بنیادی مسائل اور وسائل کی تقسیم پر بھی سوالات اٹھائے۔

September 22, 2026

بڑھتی ہوئی آبادی اور فاصلوں کی دشواریوں نے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور اضلاع کے قیام کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔

September 22, 2026

یوناما کا یکطرفہ کردار سامنے آنے کے بعد یہ مؤقف نمایاں ہوا ہے کہ یہ ادارہ طالبان حکومت کے پراپیگنڈا پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔

September 22, 2026

اسحاق ڈار نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور مسئلہ فلسطین مسلم امہ کے اجتماعی شعور میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

September 22, 2026

افغانستان سے دہشت گردی اور ٹی ٹی پی پر خاموشی؟ یوناما پر پاکستان کے شدید تحفظات

یوناما کا یکطرفہ کردار سامنے آنے کے بعد یہ مؤقف نمایاں ہوا ہے کہ یہ ادارہ طالبان حکومت کے پراپیگنڈا پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔
یوناما طالبان کی ترجمان بن چکی ہے، ٹی ٹی پی پناہ گاہوں پر تنقید

افغانستان میں یوناما کی جانب سے ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کو نظر انداز کرنے اور طالبان کے حق میں بیانیہ بنانے پر شدید تنقید۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔

September 22, 2026

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کا کردار شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ادارہ زمینی حقائق کو پسِ پشت ڈال کر طالبان حکومت کے ایک پراپیگنڈا ونگ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ کنڑ میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں پر جاری کردہ بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادارہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یوناما کی جانب سے بار بار مبینہ جانی نقصانات کے اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کا بنیادی مقصد افغان سرزمین پر موجود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پناہ گاہوں اور طالبان انتظامیہ کی مبینہ معاونت پر پردہ ڈالنا ہے۔

زمینی حقائق

یوناما کے اہلکار آرام دہ دفاتر میں بیٹھ کر بیانات جاری کرتے ہیں۔ ان پریس ریلیزز میں جانی نقصان اور واقعات کی زمینی سطح پر آزادانہ تصدیق کا کوئی مؤثر طریقہ کار واضح نہیں کیا جاتا۔ حملوں کے اصل حالات اور اہداف کی نوعیت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

جب بھی سرحد پار موجود ٹی ٹی پی کے کسی ٹھکانے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، مشن فوراً متحرک ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان سے لاحق سنگین خطرات پر مسلسل آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں۔

دہشت گردوں کے لیے پراپیگنڈا

یہ یکطرفہ بیانیہ درحقیقت دہشت گرد عناصر کو ایک طرح کی پروپیگنڈا ڈھال فراہم کرتا ہے۔ اس سے دہشت گرد گروہوں کو شہری آبادیوں میں چھپنے کا موقع ملتا ہے۔ یوں وہ عام شہریوں اور خاندانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب پاتے ہیں۔

یوناما متاثرہ افراد کو براہِ راست عام شہری قرار دے دیتی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ آیا ان افراد کی شناخت اور ٹی ٹی پی کے کمانڈروں یا سہولت کاروں سے روابط کی مکمل جانچ کی گئی تھی یا نہیں۔

دہشت گردوں کے ٹھکانے

اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ یوناما صرف جانی نقصان کا شمار کیوں کرتی ہے؟ افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کی بھرتی، عسکری تربیت، مالی معاونت اور کمانڈ ڈھانچے پر خاموشی کیوں سادھ لی جاتی ہے؟ پاکستان میں دراندازی کے راستوں پر یہ مشن کبھی آواز نہیں اٹھاتا۔

ہر انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی کو کڑی جانچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی پر کوئی بات نہیں کی جاتی۔ یہ بنیادی سوال نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ دہشت گرد عناصر ان مقامات پر موجود ہی کیوں تھے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں

یہ دوہرا معیار اور طرزِ عمل کسی صورت کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ پاکستان اپنی سرزمین پر حملوں اور دراندازی کے ذمہ دار دہشت گرد نیٹ ورکس کو ہر جگہ نشانہ بنائے گا۔ دہشت گرد جہاں بھی چھپیں گے، ان کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کیا جائے گا۔

پاکستانی شہریوں کا خون کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یوناما کو طالبان حکومت کی ترجمانی کے بجائے ان ٹھکانوں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے، جو خطے کے امن کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

دیکھیے: کرم آپریشن، افغان ٹی ٹی پی کمانڈر عبیداللہ بدری ساتھیوں سمیت ہلاک

متعلقہ مضامین

جی 7 ممالک نے ایران سے حوثیوں کی حمایت اور اسلحہ فراہمی ختم کرنے جبکہ حوثیوں سے سعودی عرب اور تجارتی جہازوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 22, 2026

مظفرآباد میں تمام مارکیٹس، سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے معمول کے مطابق فعال ہیں، منفی پراپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔

September 22, 2026

مصطفیٰ کمال نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو بہتر حکمرانی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کراچی کے بنیادی مسائل اور وسائل کی تقسیم پر بھی سوالات اٹھائے۔

September 22, 2026

بڑھتی ہوئی آبادی اور فاصلوں کی دشواریوں نے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور اضلاع کے قیام کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔

September 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *