اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کا کردار شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ادارہ زمینی حقائق کو پسِ پشت ڈال کر طالبان حکومت کے ایک پراپیگنڈا ونگ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ کنڑ میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں پر جاری کردہ بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادارہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یوناما کی جانب سے بار بار مبینہ جانی نقصانات کے اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کا بنیادی مقصد افغان سرزمین پر موجود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پناہ گاہوں اور طالبان انتظامیہ کی مبینہ معاونت پر پردہ ڈالنا ہے۔
زمینی حقائق
یوناما کے اہلکار آرام دہ دفاتر میں بیٹھ کر بیانات جاری کرتے ہیں۔ ان پریس ریلیزز میں جانی نقصان اور واقعات کی زمینی سطح پر آزادانہ تصدیق کا کوئی مؤثر طریقہ کار واضح نہیں کیا جاتا۔ حملوں کے اصل حالات اور اہداف کی نوعیت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
جب بھی سرحد پار موجود ٹی ٹی پی کے کسی ٹھکانے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، مشن فوراً متحرک ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان سے لاحق سنگین خطرات پر مسلسل آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں۔
دہشت گردوں کے لیے پراپیگنڈا
یہ یکطرفہ بیانیہ درحقیقت دہشت گرد عناصر کو ایک طرح کی پروپیگنڈا ڈھال فراہم کرتا ہے۔ اس سے دہشت گرد گروہوں کو شہری آبادیوں میں چھپنے کا موقع ملتا ہے۔ یوں وہ عام شہریوں اور خاندانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب پاتے ہیں۔
یوناما متاثرہ افراد کو براہِ راست عام شہری قرار دے دیتی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ آیا ان افراد کی شناخت اور ٹی ٹی پی کے کمانڈروں یا سہولت کاروں سے روابط کی مکمل جانچ کی گئی تھی یا نہیں۔
دہشت گردوں کے ٹھکانے
اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ یوناما صرف جانی نقصان کا شمار کیوں کرتی ہے؟ افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کی بھرتی، عسکری تربیت، مالی معاونت اور کمانڈ ڈھانچے پر خاموشی کیوں سادھ لی جاتی ہے؟ پاکستان میں دراندازی کے راستوں پر یہ مشن کبھی آواز نہیں اٹھاتا۔
ہر انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی کو کڑی جانچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی پر کوئی بات نہیں کی جاتی۔ یہ بنیادی سوال نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ دہشت گرد عناصر ان مقامات پر موجود ہی کیوں تھے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں
یہ دوہرا معیار اور طرزِ عمل کسی صورت کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ پاکستان اپنی سرزمین پر حملوں اور دراندازی کے ذمہ دار دہشت گرد نیٹ ورکس کو ہر جگہ نشانہ بنائے گا۔ دہشت گرد جہاں بھی چھپیں گے، ان کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کیا جائے گا۔
پاکستانی شہریوں کا خون کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یوناما کو طالبان حکومت کی ترجمانی کے بجائے ان ٹھکانوں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے، جو خطے کے امن کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
دیکھیے: کرم آپریشن، افغان ٹی ٹی پی کمانڈر عبیداللہ بدری ساتھیوں سمیت ہلاک