جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ احتجاج اور لانگ مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ حکومت سے مطالبات پر بات چیت جاری رہے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمٰن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔ وزیراعظم نے لانگ مارچ کچھ دن مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
جماعت اسلامی کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیراعظم کو بتایا کہ جماعت امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتی۔ حکومت سے تصادم بھی مقصد نہیں ہے۔
بعد ازاں جماعت اسلامی نے مشاورت کے بعد لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم جماعت نے احتجاجی تحریک ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دھرنے جاری
حافظ نعیم الرحمٰن نے ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی پہلے احتجاج کر چکی ہے۔ اس کے بعد ملک بھر میں دھرنے دیے گئے۔
ان کے مطابق 16 اگست سے شروع ہونے والے دھرنے 40 شہروں میں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج سے دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم نے وطن واپس آکر جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر عوام کو ریلیف دینے کی بات کی ہے۔ اب حکومت کے اقدامات دیکھے جائیں گے۔
اکتوبر میں لانگ مارچ
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف دیتی ہے تو صورتحال مختلف ہوگی۔ تاہم اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو اکتوبر میں لانگ مارچ کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کا موجودہ احتجاج بنیادی طور پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف ہے۔ پارٹی اس لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا کہ احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی کھلا ہے۔
دیکھیے: ممتاز عالم دین اور جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر حافظ محمد ادریس انتقال کر گئے