خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ اور پوری صوبائی مشینری صرف ایک شخص کے سیاسی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ساری توجہ وفاق کے خلاف محاذ آرائی پر مرکوز ہے۔
گڈ گورننس کا بحران
صوبے میں ترقیاتی کام مکمل طور پر رک چکے ہیں۔ سرکاری وسائل اور صوبائی فنڈز کو سیاسی احتجاج اور جلسوں پر بے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے۔ اہم محکمے غیر فعال ہیں اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔
بدامنی میں اضافہ
صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ دہشت گردی اور جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس کو وسائل فراہم کرنے کے بجائے سرکاری مشینری کو اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وفاق سے مداخلت کا مطالبہ
صوبے میں بڑھتی لاقانونیت اور انتشار پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید بے چینی ہے۔ وفاقی حکومت سے فوری اور سخت مداخلت کا مطالبہ اب غیر معمولی طور پر زور پکڑ چکا ہے۔ عوامی حلقوں کا اصرار ہے کہ وفاق فوری آئینی اقدامات کرے اور صوبے کو اس بحران سے نجات دلائے۔