پاکستان کا آئین ملک کی سلامتی، صوبائی نظم و نسق اور عوامی مفادات کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم، جب کوئی صوبائی حکومت اپنی علاقائی حدود اور سرکاری اختیارات کو ریاستِ پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے یا وفاق پر لشکر کشی کے لیے استعمال کرے تو یہی آئینِ پاکستان، خصوصاً آرٹیکل 234 کی شق 1 کے تحت وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت کو یہ اختیار اور حتمی آئینی و قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ جب کسی صوبے کی حکومت آئین کی فراہم کردہ حدود اور احکامات کے مطابق نہ چلائی جا رہی ہو، تو صدر مملکت، گورنر کی رپورٹ یا اطمینان پر ایک اعلامیہ کے ذریعے صوبائی حکومت کے تمام یا کسی بھی قسم کے انتظامی و قانونی اختیارات بذاتِ خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو تفویض کر سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کی موجودہ انتظامیہ نے گورننس کے تمام بنیادی تقاضوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ آئینی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں آرٹیکل 234 کا نفاذ قانونی اور اخلاقی طور پر انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس قدم کا سب سے بنیادی مقصد خیبر پختونخوا کے مظلوم عوام کی بہتری، ان کے حقوق کا تحفظ اور ان کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے تاکہ صوبے کو اس انتشار سے نکالا جا سکے۔ خیبر پختونخوا کی انتظامیہ اب ایک جمہوری حکومت کے بجائے ایک سیاسی جتھے کا روپ دھار چکی ہے، جس کے پیشِ نظر آرٹیکل 234 کے نفاذ کی قانونی، مالیاتی اور آئینی دلائل درج ذیل شق وار حقائق سے ثابت ہوتے ہیں:
آئینی مشینری کی ناکامی
آئین کے آرٹیکل 234 کی پہلی بنیادی شق صوبے میں آئینی مشینری کی مکمل ناکامی پر وفاقی مداخلت کا حکم دیتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کو یکسر پامال کر دیا ہے، جن کے تحت صوبے وفاق کے فیصلوں اور قانون کی پاسداری کے پابند ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی انتظامیہ نے صوبائی پولیس فورس، ریسکیو 1122 کی گاڑیوں اور بھاری سرکاری مشینری کو وفاقی دارالحکومت پر لشکر کشی اور ریاست کے خلاف ہنگامہ آرائی کے لیے استعمال کیا ہے۔ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ اپنے آئینی حلف سے روگردانی کرتے ہوئے صوبائی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دیگر صوبوں کی حدود میں جا کر انارکی پھیلانے پر ضائع کر رہے ہیں، جو کہ آئینی مشینری کی تباہی اور آئین سے کھلی بغاوت کا ثبوت ہے۔
صوبائی اسمبلی اور کابینہ
آرٹیکل 234 کی دوسری شق کے تحت صوبائی اسمبلی کی قانون سازی اور تمام انتظامی اختیارات کو معطل کر کے وفاق یا پارلیمنٹ کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت گورننس اور آئینی عمل کا گراف بالکل صفر ہو چکا ہے کیونکہ صوبائی اسمبلی اور پوری کابینہ کا واحد کام صرف اور صرف اپنے ایک سزا یافتہ قائد کی رہائی کی قراردادیں منظور کرنا اور سیاسی ڈرامے رچانا رہ گیا ہے۔ صوبے کے سول اداروں اور پولیس کو امن و امان قائم کرنے کی ہدایت دینے کے بجائے سیاسی لشکر کشی کی تیاریوں پر لگا دیا گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت عوامی نمائندگی کا معیار اور قانون کے مطابق حکومت چلانے کا آئینی جواز مکمل طور پر کھو چکی ہے۔
شہریوں کی سلامتی کو خطرات
یہ آئینی مداخلت اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو زندگی، سلامتی اور تحفظ کا بنیادی حق دیتا ہے، جسے موجودہ صوبائی حکومت نے شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خیبر پختونخوا اس وقت بدامنی اور دہشت گردی کی نئی لہر کی زد میں ہے، لیکن پی ٹی آئی قیادت نے پولیس کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مضبوط کرنے اور شہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے تمام سیکیورٹی وسائل سیاسی احتجاجی قافلوں پر نچھاور کر دیے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات نایاب ہیں اور سکولوں کی حالت زبوں حالی کا شکار ہے کیونکہ انتظامیہ کی تمام تر ترجیح اور توانائیاں عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے بجائے صرف سیاسی انتشار پھیلانے پر مرکوز ہیں۔
معاشی نقصانات
معاشی زاویے سے دیکھا جائے تو اس حکومت نے عوام کا دھیان احتجاج کی بتی کے پیچھے لگا کر پچھلے دروازے سے صوبے کے خزانے کو خالی کرنے اور قومی معیشت کو مفلوج کرنے کا شرمناک کھیل رچا رکھا ہے۔ وفاقی وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق پی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہروں، ہڑتالوں اور شاہراہوں کی بندش سے ملکی معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے سے زائد کا شدید سکتہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا پہلے ہی اربوں کے مقروض ہونے کے باوجود اپنے ترقیاتی بجٹ اور عوامی فنڈز کو بینرز، احتجاجی تیاریوں اور گاڑیوں کے پٹرول میں جھونک رہا ہے تاکہ جاتے جاتے خزانے میں ایک روپیہ بھی باقی نہ بچے اور مالیاتی بے ضابطگیوں کا حساب نہ مانگا جا سکے۔
وفاقی کنٹرول کے متوقع فوائد
جب وفاق آئین کے آرٹیکل 234 کو فعال کر کے خیبر پختونخوا کا کنٹرول سنبھالے گا، تو اس سے بالواسطہ طور پر صوبے کے چار کروڑ شہریوں کے سلب شدہ بنیادی حقوق بحال ہوں گے۔ وفاقی کنٹرول کے بعد سرکاری اداروں اور پولیس کو سیاسی غلامی سے نجات ملے گی اور وہ دوبارہ عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے متحرک ہو سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی صوبائی خزانے کا زیاں رک جائے گا اور عوام کا ٹیکس ان کی صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہوگا، جبکہ تجارتی شاہراہیں اور موٹرویز کھلی رہنے سے تاجروں اور عام دیہاڑی داروں کو روزانہ کے معاشی قتلِ عام سے نجات ملے گی۔
نتیجہ
ان تمام حقائق، اعداد و شمار اور روز مرہ کی آئینی خلاف ورزیوں سے یہ بالکل واضح ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اب قانونی طور پر کام کرنے کے اہل نہیں رہی۔ صوبے کو مکمل انارکی، مالیاتی بدعنوانی اور معاشی تباہی کی دلدل سے نکالنے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس اب تاخیر کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 234 کا فوری نفاذ ہی ملک کی سلامتی، خیبر پختونخوا کے مظلوم عوام کی فلاح اور آئینی حاکمیت کی بحالی کی واحد اور سب سے بڑی ضرورت ہے۔
دیکھیے: کے پی بدامنی اور آرٹیکل 232