خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ اب صوبائی حکومت کی انتظامی گرفت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ آئے روز کے پرتشدد واقعات، دہشت گردی کی نئی لہر اور سیکیورٹی اداروں کو درپیش چیلنجز نے شہریوں میں گہرے تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔
عوامی حلقوں، تاجر برادری اور ماہرین کی جانب سے یہ رائے شدت اختیار کر رہی ہے کہ صوبائی قیادت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام نظر آ رہی ہے۔
صوبائی ترجیحات
ماہرین اور عوامی حلقوں کی بڑی شکایت یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ اسلام آباد کے خلاف سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست پر ہے۔ صوبے کے وسائل اور انتظامی صلاحیتوں کو سیکیورٹی انفراسٹرکچر مضبوط کرنے کے بجائے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس صورتِ حال کے باعث پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مناسب پالیسی سپورٹ سے محروم دکھائی دیتے ہیں، جس سے جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔
عوامی سطح پر یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ معمول کی زندگی، کاروبار اور بنیادی تحفظ داؤ پر لگ چکا ہے۔ اس انتظامی خلا کے نتیجے میں مختلف اضلاع سے یہ آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ صوبے کو سیاسی مقاصد کے لیے لاوارث نہیں چھوڑا جا سکتا، اور اگر صوبائی مشینری امن بحال نہیں کر سکتی تو وفاق کو اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی مداخلت کے مطالبات
خیبر پختونخوا کے بگڑتے حالات کے پیشِ نظر اب یہ مطالبہ تیزی سے زور پکڑ رہا ہے کہ وفاقی حکومت محض زبانی تسلیوں سے آگے بڑھے اور زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ سیاسی حلقوں کا موقف ہے کہ جب صوبائی حکومت اندرونی بدامنی کو روکنے میں مکمل طور پر بے بس یا غیر سنجیدہ دکھائی دے، تو وفاق کے پاس خاموش رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
اس تناظر میں آئینی دفعات، بالخصوص آرٹیکل 232 کے تحت ممکنہ اقدامات پر سنجیدگی سے غور کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ آئین کا یہ تقاضا واضح ہے کہ ریاست کی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ صوبائی سرحدوں سے بالاتر ہے۔ وفاقی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئینی شقیں ایسی ہی غیر معمولی صورتِ حال کے لیے بنائی گئی ہیں تاکہ انتظامی بحران کے وقت ریاستی کنٹرول سنبھال کر امن بحال کیا جا سکے۔
اقدامات کی ضرورت
شہریوں اور سنجیدہ حلقوں کا اصرار ہے کہ اب وقت سیاسی بیانات کے تبادلے کا نہیں بلکہ عملی فیصلوں کا ہے۔ اگر صوبائی حکومت نے فوری طور پر اپنی ترجیحات درست نہ کیں اور سیکیورٹی کی سنگین صورتِ حال پر قابو نہ پایا، تو وفاق پر آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے انتظامی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کا دباؤ مزید بڑھے گا۔ عوامی حلقوں کے مطابق ریاست کی رٹ اور معصوم شہریوں کی زندگیاں کسی بھی سیاسی مفاد سے زیادہ اہم ہیں۔