حیفہ کے مرکز کبابیر میں منعقد ہونے والے سالانہ جلسے پر اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ کا پیغام اور توصیفی کلمات دراصل کسی وقتی خیر سگالی کا اظہار نہیں، بلکہ یہ صیہونی اسٹیبلشمنٹ اور قادیانی جماعت کے مابین دہائیوں پر محیط فکری، سیاسی اور تزویراتی گٹھ جوڑ کا ایک اور کھلا ثبوت ہے۔ ایک ایسے دور میں جب ارضِ فلسطین انسانی اور جغرافیائی بحران کی زد میں ہے، غزہ سے لے کر مغربی کنارے تک نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی اور محاصرہ جاری ہے، اور تاریخی مساجد کو تالے لگائے جا رہے ہیں، تل ابیب کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے اس گروہ کو نوازنا اور انہیں نام نہاد امن پسند قرار دینا صیہونی ایجنڈے اور قادیانی مقاصد کے مکمل ہم آہنگ ہونے کی واضح تصدیق ہے۔
ان سرگرمیوں کی بنیادیں سمجھنے کے لیے نوآبادیاتی دور کی تاریخ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں برطانوی ہند کے اندر مرزا غلام احمد کی جانب سے انگریز سامراج کی غیر مشروط اطاعت اور مسلمانوں کے فریضۂ جہاد کی منسوخی کا جو نظریہ پیش کیا گیا، اس کا بنیادی مقصد ہی امتِ مسلمہ کے جذبۂ مزاحمت کو توڑنا اور استعماری قوتوں کے تسلط کو دوام بخشنا تھا۔
تاریخ کا یہ تسلسل انتہائی گہرا اور واضح ہے کہ جس برطانوی حکومت نے 1917 کے اعلانِ بالفور کے ذریعے ارضِ فلسطین پر ایک ناجائز صیہونی ریاست کے قیام کا راستہ ہموار کیا، اسی برطانیہ کے زیرِ سایہ 1920 کی دہائی میں قادیانی مبلغ جلال الدین شمس کو مشرقِ وسطیٰ کے حساس ترین علاقے حیفہ میں مکمل تحفظ کے ساتھ تعینات کیا گیا۔ یہ اقدام خطے میں روایتی مسلم شعور اور مزاحمت کے متبادل ایک ایسے بیانیے کو جڑ پکڑوانے کا منظم منصوبہ تھا جو مغربی و صیہونی عزائم کے لیے کبھی خطرہ نہ بنے۔
اس سازش کا سب سے واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت 1948 کے المناک نکبہ کے دوران سامنے آیا۔ اس خونی المیے میں جب اسرائیلی دہشت گرد گروہوں نے لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کیا، سینکڑوں دیہات مسمار کر دیے اور مساجد کی بے حرمتی کی، عین اسی وقت حیفہ کا کبابیر گاؤں مکمل طور پر محفوظ رہا۔ صیہونی عسکری مشینری نے اس بستی کے ایک مکان پر بھی آنچ نہیں آنے دی، بلکہ اس آبادی کو فوری طور پر تمام تر شہری حقوق، پاسپورٹ اور وہ اراضی فراہم کی گئی جس پر اصل فلسطینی باشندوں کا حق تھا۔ یہ غیر معمولی اقدام اور استثنا بذاتِ خود اس امر کی گواہی ہے کہ صیہونی ریاست پہلے دن سے اس جماعت کو اپنے وجود کے تحفظ اور مسلم دنیا میں رخنہ ڈالنے کے لیے ایک مہرے کے طور پر دیکھتی رہی ہے۔
یہی رعایت بعد کے برسوں میں بے پناہ مذہبی، تنظیمی اور نشریاتی مراعات کی صورت میں پروان چڑھی۔ جس ریاست میں مقامی فلسطینیوں پر سخت ترین سکیورٹی پابندیاں عائد ہیں، وہاں حیفہ میں بلند میناروں والی مسجد، اسکول اور پریس قائم کیے گئے، اور عربی زبان میں نشریات کے لیے جدید ترین ایم ٹی اے اسٹوڈیوز کو مکمل آزادی دی گئی۔ صیہونی ریاست نے اس مرکز کو عالمی سطح پر اپنے نام نہاد جمہوری اور کثیر الثقافتی چہرے کے طور پر پیش کیا، جبکہ قادیانی قیادت نے اس پلیٹ فارم کے ذریعے عرب دنیا میں استعمار مخالف مزاحمت کو ختم کرنے کی تبلیغ کی۔
اس گٹھ جوڑ کی عملی کڑیاں اسرائیلی اعلیٰ قیادت کی مسلسل حاضری سے بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ شمعون پیریز سمیت متعدد اسرائیلی رہنما ذاتی طور پر کبابیر میں ان کی تقاریب اور افطار پارٹیوں میں شریک ہو کر ان کی تحسین کرتے رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی وزارتِ داخلہ انہیں خصوصی سرپرستی فراہم کرتی آئی ہے۔ مختلف ادوار میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالات اور دستاویزات نے بھی اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ قادیانی افراد نے اسرائیلی افواج، سول اداروں اور وزارتِ داخلہ میں خدمات سرانجام دے کر قابض صیہونی ریاست کو اپنے عملی تعاون سے مضبوط کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ 1948 کے بعد جب پوری مسلم امہ نے اسرائیل کا مکمل بائیکاٹ کیا، اس جماعت نے کبابیر مرکز کو برقرار رکھتے ہوئے صیہونی حکام کی سرپرستی قبول کی۔ بعد ازاں جب پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، تو اس گروہ نے اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک اور حیفہ کے مرکز کے ذریعے صیہونی و مغربی حلقوں کی بھرپور وکالت حاصل کی۔ اس تاریخی تسلسل نے مجلسِ احرار، جید علمائے کرام اور مسلم مفکرین کے اس دیرینہ مؤقف کو ایک بار پھر حرف بہ حرف درست ثابت کر دیا ہے کہ یہ مرکز روزِ اول سے ہی صیہونی مقاصد کی پشت پناہی اور مسلم مفادات کے خلاف سرگرم رہا ہے۔
حیفہ کے سالانہ جلسے پر اسرائیلی صدر کے موجودہ کلمات اور مسلسل تہنیتی پیغامات دراصل کسی نئے واقعے کا آغاز نہیں بلکہ ایک پرانے، مستند اور گہرے تزویراتی اتحاد کا اعلانیہ تسلسل ہیں۔ دستاویزی شواہد، تاریخی اقدامات اور زمینی حقائق اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ قادیانیت اور صیہونیت کا تعلق محض اتفاقی نہیں، بلکہ یہ مسلم مزاحمت کو کمزور کرنے، ارضِ فلسطین پر قبضے کو جواز دینے اور صیہونی مقاصد کو دوام بخشنے پر مبنی ایک باضابطہ اور واضح گٹھ جوڑ ہے۔