وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ بابر یوسف زئی نے کہا ہے کہ صوبے کی تمام سیاسی قوتیں اور عوام نئے صوبوں کے قیام پر متحد ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کا باقاعدہ آغاز بلوچستان سے ہوگا۔
انتظامی مشکلات
بابر یوسف زئی کے مطابق بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے کل رقبے کا 44 فیصد ہے۔ اس قدر وسیع خطے کے تمام انتظامی معاملات صرف کوئٹہ سے چلانا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ بہتر حکمرانی کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کا اہم تقاضا بن چکا ہے۔
بنیادی مسائل
مشیر داخلہ نے واضح کیا کہ کوئٹہ میں بیٹھ کر 800 کلومیٹر دور واقع علاقوں کی دیکھ بھال نہیں کی جا سکتی۔ تربت، خضدار، لسبیلہ، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل اور ژوب کے عوام مسائل کے حل کے لیے دارالحکومت کے محتاج رہتے ہیں۔ ان اضلاع کی حقیقی ترقی کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل ناگزیر ہے۔
دیکھیے: سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، شہری میدان پر آگئے