گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (آئی ای پی) کی جانب سے جاری کردہ انڈیکس میں پاکستان 8.574 اسکور کے ساتھ پہلی پوزیشن پر آ گیا ہے۔ اس فہرست میں برکینا فاسو، نائجر، نائیجیریا اور مالی بالترتیب پاکستان کے بعد موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے مجموعی طور پر 1,045 واقعات پیش آئے جن میں 1,139 افراد لقمہ اجل بنے۔ گذشتہ برس کے مقابلے میں حملوں کی تعداد میں معمولی کمی واقع ہوئی، تاہم جانی نقصان میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں 28 فیصد کمی آئی، لیکن پاکستان کا رجحان اس عالمی تناظر کے برعکس رہا۔
کے پی اور بلوچستان
دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کا پھیلاؤ یکساں نہیں رہا۔ مغربی سرحدی علاقوں یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں کا سب سے زیادہ ارتکاز دیکھا گیا۔ ملک میں پیش آنے والے مجموعی حملوں کا 74 فیصد سے زائد حصہ انہی دو صوبوں میں ہوا، جبکہ ہونے والی کل اموات کا 67 فیصد بھی اسی خطے میں درج ہوا۔
ٹی ٹی پی سب سے بڑی ذمہ دار
رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ملک کے اندر دہشت گردی کے خطرات کا بنیادی محرک قرار دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ٹی ٹی پی نے مجموعی ہلاکتوں میں سے 56 فیصد کی ذمہ داری قبول کی۔ اس کالعدم تنظیم کے 595 حملوں کے نتیجے میں 637 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
آئی ای پی نے اس بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا تعلق اگست 2021 میں افغانستان کے اندر طالبان کے اقتدار میں آنے سے جوڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں میں اضافہ ہوا جس کے باعث ٹی ٹی پی کو کارروائیوں کے لیے زیادہ سہولت اور رسائی حاصل ہوئی۔
ماہرین اور دفاعی مبصرین کے مطابق گلوبل ٹیررازم انڈیکس کی درجہ بندی دہشت گردی کے اثرات، جانی نقصانات اور یرغمال بنانے کے واقعات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ یہ درجہ بندی ریاستی کارکردگی، صلاحیت یا دہشت گردی کی پشت پناہی کو ظاہر نہیں کرتی، بلکہ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان بذاتِ خود دہشت گردی سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ فریق ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی فہرست میں افغانستان 10ویں جبکہ بھارت 13ویں نمبر پر رہا ہے۔ اس انڈیکس نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش حالیہ لہر مقامی سطح پر پیدا ہونے کے بجائے بڑی حد تک علاقائی اور سرحد پار تبدیلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔