سوشل میڈیا پر افغان طالبان کے مبینہ مظالم اور استحصالی رویے کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر ایک افغان شہری کے دل دہلا دینے والے انکشافات کے بعد طالبان رجیم کی انسانی حقوق کے خلاف جاری پالیسیوں پر بحث چھڑ گئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ طالبان کی آمد کے بعد سے افغانستان میں شہریوں بالخصوص خواتین کے لیے زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔
جبری شادیاں
سامنے آنے والے شواہد اور بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان جنگجو اقتدار کے نشے میں اخلاقی اور سماجی حدود پامال کر رہے ہیں۔ الزامات کے مطابق جنگجوؤں کی جانب سے خواتین کو جبراً شوہروں سے طلاق دلوا کر نکاح پر مجبور کرنے کے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔
اوریا مقبول جان کے پسندیدہ نمک حرام افغان طالبان کی حرکتیں دیکھیں!
— Dr Farhan K Virk (@FarhanKVirk) September 25, 2026
"جو بھی عورت طالبان کو پسند آتی ہے، اسکو طلاق دلوا کر مال غنیمت سمجھ کر اس سے شادی کر لیتے ہیں۔"
یہ ایک مظلوم افغان شہری ہے، کوئی پاکستانی نہیں pic.twitter.com/Ml9FPBjy60
ایک افغان شہری کی جانب سے سامنے لائی گئی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کو مالِ غنیمت کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے، جس نے افغان معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔
سوشل میڈیا حلقوں نے ان اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جبر کا شکار کوئی بیرونی عنصر نہیں بلکہ خود افغانستان کے اپنے مظلوم شہری ہیں۔ عوام کو بنیادی شرعی اور قانونی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے یہ انتہا پسندانہ اور غیر اخلاقی اقدامات ان کے دعوؤں کے برعکس ان کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔