ایک افغان شہری کے حالیہ دعوے نے خطے میں سلامتی کی صورتِ حال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس انکشاف کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغان طالبان اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان مبینہ روابط قائم ہیں۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دبئی میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں فنڈنگ کے معاملات طے پاتے ہیں۔ ان رابطوں کے ذریعے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے مالی وسائل مختص کیے جاتے ہیں۔
افغانستان کے راستے فنڈز کی منتقلی
مذکورہ شہری کے مطابق یہ رقوم افغانستان کے راستے پاکستان میں متحرک دہشت گرد گروہوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ رقوم کی ترسیل کے لیے روایتی اور غیر قانونی راستے استعمال کیے جاتے ہیں۔
دعوے کے مطابق اس ساری سرگرمی کا بنیادی ہدف پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا ہے۔ مالی معاونت کا مقصد عسکریت پسند گروہوں کی صلاحیت کو بڑھانا اور خطے کے مجموعی امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین کو ایک بار پھر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان کی سرزمین سے سرحد پار دراندازی پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ تمام دعوے اور الزامات ایک افغان شہری کے ذاتی بیان پر مبنی ہیں۔ آزاد ذرائع سے تاحال ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔