کابل میں برسراقتدار طالبان رجیم کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والے 41 مبینہ جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔ طالبان کے مطابق نورستان کے ضلع کامدیش میں ہونے والے آپریشن میں مزید 62 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
طالبان حکام نے ابتدا میں ان افراد کو شرپسند اور بعد ازاں داعش خراسان کا رکن قرار دیا۔ طالبان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرکے سرحد پار دراندازی کا الزام لگایا اور باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
دوسری جانب دفاعی اور علاقائی مبصرین نے طالبان کے ان متضاد دعووں پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ طالبان نے 26 اور 27 ستمبر کے دوران گرفتار شدگان سے متعلق اپنا بیانیہ بار بار تبدیل کیا۔ ابتدا میں گرفتار افراد کو سابق افغان فوج کے اہلکار کہا گیا، مگر بعد میں انہیں داعش کا کارندہ ظاہر کیا گیا۔
طالبان انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مبینہ اعترافی ویڈیوز نے بھی دعووں کی صداقت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد غیر مسلح، پرسکون اور صاف ستھرے ملبوسات میں دکھائی دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت اور سرد پہاڑی علاقوں میں لڑنے والے جنگجوؤں کی ایسی حالت ہونا زمینی حقائق کے یکسر منافی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس پروپیگنڈا مہم کے پس پردہ اصل محرک شمالی صوبوں میں جاری عوامی بے چینی ہے۔ جون سے بدخشان، کنڑ اور نورستان کے علاقوں میں مقامی آبادی قندھاری طالبان کے وسائل، بالخصوص سونے کی کانوں پر جبری قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ طالبان مقامی مزاحمت کو بیرونی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عالمی مبصرین یہ نکتہ بھی اٹھاتے ہیں کہ طالبان رجیم خود دوحہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ کابل پر قابض یہ گروہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم، اور القاعدہ جیسے شدت پسند گروہوں کو پناہ فراہم کر رہا ہے۔ یہ عناصر پاکستان میں دہشت گردی اور ہزاروں معصوم جانوں کے زیاں میں براہِ راست ملوث رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس بشمول واشنگٹن پوسٹ کے مطابق طالبان کے ان دعووں کی آزادانہ ذرائع سے کسی قسم کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھی ماضی میں طالبان حکومت کے ایسے تمام بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کیا جاتا رہا ہے۔