ٹی ٹی پی، القاعدہ برصغیر اور بی ایل اے کے درمیان عملی تعاون بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس پیش رفت سے خطے میں سکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انتہائی معتبر انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بشیر زیب، گل بہادر اور القاعدہ برصغیر کے افغانستان میں کمانڈر نے قندھار میں آپریشنل رابطہ اجلاس کیا۔
اجلاس میں بلوچستان کے پشتون علاقوں میں مشترکہ کارروائیاں تیز کرنے پر بات ہوئی۔ فریقین نے اپنے وسائل کو یکجا کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق گل بہادر اور القاعدہ برصغیر نے کارروائیوں کے لیے افرادی قوت، اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کے نئے بھرتی ہونے والے افراد کو القاعدہ برصغیر کے الفاروق تربیتی مراکز میں تربیت دی جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی اویغور باشندے ساقی محمد صالح کو بلوچستان میں کام کرنے والی تجارتی کمپنیوں سے متعلق معلومات گل بہادر کو فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے انٹیلی جنس ادارے جی ڈی آئی کو بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے بڑھتے ہوئے براہ راست روابط پر تشویش ہے۔
رپورٹ کے مطابق جی ڈی آئی نے کابل میں را کے اسٹیشن چیف سے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے رابطے جی ڈی آئی کے ذریعے کیے جائیں۔
ان اطلاعات کے مطابق مختلف مسلح گروہوں کے درمیان تعاون میں اضافہ خطے کی سکیورٹی کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت بھارت سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس کے مفادات کی تکمیل میں پراکسی گروہوں کا استعمال جاری رکھنا چاہتی ہے۔