حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات رات گئے بے نتیجہ ختم ہو گئے۔ مسودے پر فریقین میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ مذاکرات کا کوئی نیا راؤنڈ بھی طے نہیں پایا۔ تحریک انصاف نے ملک گیر لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے مذاکرات کی ناکامی پر اہم مؤقف دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ تقریباً طے پا چکا تھا۔ اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کو خیبرپختونخوا سے ڈکٹیٹ کیا گیا۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں ہر ممکن لچک دکھائی۔
طلال چوہدری کے مطابق کے پی حکومت نے دہشتگردی کے خلاف تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ٹو بانی پی ٹی آئی کے دور میں بنا تھا۔ صوبائی حکومت اس پر عمل کرنے کی یقین دہانی سے انکاری ہے۔ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ فورسز کا ساتھ دینا آئینی ذمہ داری ہے۔
طلال چوہدری نے خبردار کیا کہ روزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان کو بڑا جانی اور مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب مزید انتظار ممکن نہیں۔ اگر تعاون نہ ملا تو وفاق آئین اور آرٹیکل 234 کے تحت قدم اٹھائے گا۔
دوسری جانب مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد نہیں آنے دیں گے۔ پیپلز پارٹی رہنما شیری رحمان بولیں۔ انہوں نے کہا کہ مسودہ 4 بار تبدیل ہوا۔ کے پی حکومت دہشتگردی کے خلاف ساتھ دینے پر راضی نہ ہوئی۔
اپوزیشن رہنما راجہ ناصر عباس نے ڈیڈلاک کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ کے پی آپریشن پر اختلاف برقرار رہا۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر بھی بات نہ بنی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گورنر راج اور لانگ مارچ پر بات ہوئی مگر نتیجہ نہ نکلا۔
مذاکرات کے فوری بعد وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے شیڈول جاری کیا۔ پہلا مرحلہ آج 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوگا۔ قافلے بنوں اور وزیرستان سے کرک پہنچیں گے۔ اگلے مراحل میں قافلہ کوہاٹ اور پشاور کی جانب بڑھے گا۔
شیڈول کے مطابق 8 اکتوبر کو تمام قافلے خیرآباد میں اکٹھے ہوں گے۔ وزیراعلیٰ خیرآباد میں آئندہ کا حتمی اعلان کریں گے۔ دونوں فریقین ایک دوسرے کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔
دیکھیے: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب، مشترکہ اعلامیہ تیار