اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور کامیاب ہو گیا ہے۔ اسپیکر ہاؤس میں ہونے والی تفصیلی مشاورت کے بعد فریقین نے مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا ہے۔
مذاکرات کی صدارت اور وفود مذاکرات کی میزبانی اور صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔
اس اہم سیاسی بیٹھک میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندہ وفود نے بھرپور شرکت کی۔
مذاکرات کے آغاز پر گلے شکوے ذرائع کے مطابق مذاکراتی نشست کا آغاز ابتدائی شکووں سے ہوا۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے رہنما سہیل آفریدی کے حالیہ سوشل میڈیا بیان پر اعتراض اٹھایا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کی بجائے دوبارہ بیانات دیے گئے۔ اس پر حکومتی وفد نے اپوزیشن کے بااختیار ہونے پر سوال اٹھایا۔
اپوزیشن کا جوابی مؤقف اپوزیشن وفد نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان پر جوابی تحفظات ظاہر کیے۔
اپوزیشن نمائندوں کا کہنا تھا کہ بامقصد پیش رفت کے لیے دونوں جانب سے باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنا ناگزیر ہے۔
مشترکہ اعلامیہ اور کمیٹیوں کی تشکیل حکومتی ارکان نے مذاکرات کو کھلے دل اور مکمل اختیارات کے ساتھ آگے بڑھانے پر زور دیا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ ختم کر کے مستقل مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کر کے خصوصی کمیٹیوں کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کی تجویز پر پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں فریق اپنی اعلیٰ قیادت سے باضابطہ منظوری کے بعد حتمی فیصلہ نافذ کریں گے۔