جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی اولین روح یہ ہے کہ بڑے سے بڑا بحران اور گہرے سے گہرا تنازع بھی بات چیت کی میز پر سلجھایا جائے۔ لیکن پاکستان کی عصری سیاست کا جائزہ لیں تو ایک تلخ اور مستقل نمونہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے، جہاں ایک خاص سیاسی رویہ مذاکرات کی سنجیدہ اور بامقصد کوششوں کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دیتا رہا ہے
۔ حالیہ مذاکراتی عمل کا جس طرح اچانک اور بے نتیجہ خاتمہ ہوا، اس نے ایک بار پھر یہ سوال عوامی اور فکری حلقوں میں اٹھا دیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جب بھی فریقین کسی پائیدار مفاہمت کے قریب پہنچتے ہیں، ایک طرف سے فورا مذاکرات کی میز الٹ کر سڑکوں، دھرنوں اور اسلام آباد پر یلغار کا راستہ کیوں چن لیا جاتا ہے؟
اس پوری کشمکش میں جو بات سب سے زیادہ تشویشناک اور ناقابل فہم بن کر ابھری ہے، وہ خیبر پختونخوا کے امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف کی مجموعی سوچ اور ترجیحات ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست کے سکیورٹی ادارے اور پولیس کے جوان روزانہ جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں، اور خود خیبر پختونخوا کے عام لوگ دہشت گردی کے عفریت سے خوفزدہ ہیں، پی ٹی آئی کی قیادت کے مذاکراتی مطالبات قومی بقا کے اس سنگین مسئلے سے بالکل کٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے سامنے آنے والے انکشافات نے صورتحال کی سنجیدگی کو اور بھی واضح کر دیا ہے، جہاں ابتدائی طور پر انسداد دہشت گردی کے لیے وسائل میں اضافے، سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون، اور دہشت گرد عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے پر اتفاق رائے کے بعد صوبائی حکومت اچانک اپنے ہی دستخط شدہ اور زبانی وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
یہ پسپائی محض کوئی عام سیاسی داؤ پیچ نہیں ہے، بلکہ یہ اس پرانے اور معذرت خواہانہ بیانیے کی تجدید ہے جس نے ماضی میں بھی ملکی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ تحریک انصاف کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور شدت پسند عناصر کے بارے میں پارٹی کا ایک خاص غیر واضح اور نیم ہمدردانہ مؤقف ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ ماضی میں خیبر پختونخوا میں حکومت کے دوران اور بعد ازاں وفاق میں اقتدار کے دنوں میں بھی ہزاروں مسلح شدت پسندوں کی خاموش واپسی اور بحالی کا جو تجربہ کیا گیا، آج خیبر پختونخوا کے پہاڑ، بازار اور تھانے اسی غلط فیصلے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
آج بھی جب وفاق ان گروہوں کے خلاف بغیر کسی تفریق کے سخت کارروائی، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد اور شدت پسندی کی دو ٹوک مذمت کا تقاضا کرتا ہے، تو صوبائی حکومت لیت و لعل سے کام لیتی ہے، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ شاید سیاسی مصلحتوں یا نظریاتی لچک کے باعث ان عناصر کے لیے دل کے کسی گوشے میں اب بھی نرمی موجود ہے۔
دوسری طرف مذاکرات کی میز پر جو طرز عمل اپنایا گیا، وہ کسی سنجیدہ اور پختہ پارلیمانی جماعت کا شیوہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ جب بھی بات چیت شروع ہوتی ہے، تو ایک فریق کی ساری توانائیاں قیدیوں کی رہائی، ذاتی ملاقاتوں کے پروٹوکول اور مقدمات سے جان چھڑانے کے گرد گھومنے لگتی ہیں، گویا ملک کے عام شہریوں کی سلامتی، معیشت اور بقا کے فیصلے کسی انفرادی مفاد کے تابع ہوں۔
جب ریاست کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی بات کی جاتی ہے تو اسے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے، اور اس کے بجائے مذاکرات کے ساتھ ہی متوازی طور پر دھرنے، جلسے اور وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی تاریخیں دینا شروع کر دی جاتی ہیں۔ یہ کھلا تضاد ثابت کرتا ہے کہ مذاکرات کو کسی پائیدار حل کے لیے نہیں بلکہ محض وقت گزاری اور سڑکوں پر طاقت دکھانے کی تیاریوں کے لیے بطور ڈھال استعمال کیا جا رہا ہے۔
سڑکوں، جلوسوں اور دھرنوں کی سیاست وقتی طور پر اپنے متوالوں کو تو پرجوش کر سکتی ہے، لیکن اس کی حقیقی قیمت یہ ملک، اس کی لرزتی ہوئی معیشت اور سڑکوں پر روزگار کمانے والا غریب شہری چکاتا ہے۔ پورا وفاقی دارالحکومت کنٹینروں سے سیل کر دینا، ہسپتالوں کے راستے روک دینا، اسکول بند کروانا اور اربوں روپے کا معاشی نقصان کروانا اگر سیاسی کامیابی سمجھی جاتی ہے، تو یہ دراصل سیاست کی ناکامی کا کھلم کھلا اعتراف ہے۔
ہر بار مذاکرات سے فرار ہو کر شاہراہوں کا رخ کرنا اس بات کا غماز ہے کہ پارٹی کو آئینی اور جمہوری فورمز پر اپنے دلائل کی طاقت سے زیادہ ہجوم کی طاقت پر بھروسا ہے، اور وہ کسی ایسے سمجھوتے کے لیے تیار ہی نہیں جس میں کچھ دو اور کچھ لو کی روایت موجود ہو۔
پاکستان کی نازک جغرافیائی اور داخلی صورتحال اب ایسے کسی سیاسی تماشے اور غیر سنجیدہ حربوں کی قطعی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دہشت گردی کوئی ایسا معاملہ نہیں جس پر کوئی سیاسی جماعت نرم گوشہ رکھے یا اسے وفاق پر دباؤ ڈالنے کا آلہ بنائے۔
جب تک تحریک انصاف اپنی صفوں سے کالعدم تنظیموں کے لیے معذرت خواہانہ سوچ کو مکمل طور پر کھرچ کر باہر نہیں پھینکتی، اور جب تک وہ سڑکوں کے محاذ کو چھوڑ کر پارلیمان اور مذاکرات کے فریم ورک کو سنجیدگی سے نہیں اپناتی، تب تک نہ تو اس کا جمہوری چہرہ معتبر ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک میں حقیقی سیاسی و معاشی استحکام آ سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تصادم، لشکر کشی اور دہشت گردی پر ابہام پھیلانے والی سیاست کو خیرباد کہہ کر ریاست کی بقا اور عوام کے امن کو ہر ذاتی و گروہی مفاد پر ترجیح دی جائے۔