افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ آٹھواں ماسکو فارمیٹ اجلاس بغیر کسی مشترکہ اعلامیے کے ختم ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سکیورٹی معاملات پر شدید اختلافات کے باعث سامنے آئی ہے۔
مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے اس علاقائی فورم کی افادیت پر کئی اہم سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران مشترکہ اعلامیے کے مسودے میں دہشت گردی کے خلاف سخت نکات شامل کیے گئے تھے۔
افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ان حوالوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ دوسری جانب پاکستان نے واضح کیا کہ کسی ایک فریق کو پورے اعلامیے پر ویٹو کا حق نہیں ملنا چاہیے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان نے اجلاس میں افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ دوٹوک انداز میں اٹھایا۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر موجود شدت پسند گروہ پاکستان کے امن کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستانی مندوبین نے واضح کیا کہ خطے کا دیرپا استحکام افغان سرزمین کے غلط استعمال کو روکنے سے جڑا ہے۔
روس کا نقطہ نظر
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے خطاب میں طالبان انتظامیہ پر سخت تنقید دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے انسانی حقوق اور خواتین کی تعلیم جیسے حساس معاملات پر براہ راست دباؤ ڈالنے سے گریز کیا۔
ماسکو نے سکیورٹی تنازعات کے مقابلے میں افغانستان کے ساتھ تجارتی اور علاقائی روابط کو ترجیح دی۔
آئی سی سی کے وارنٹس
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب عالمی فوجداری عدالت نے چار سینئر افغان رہنماؤں کے وارنٹس جاری کیے ہیں۔ ان وارنٹس میں طالبان کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کا نام بھی شامل ہے۔
عدالت نے طالبان قیادت پر خواتین کے حقوق سلب کرنے اور مبینہ صنفی مظالم کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اجلاس کا بے نتیجہ اختتام ظاہر کرتا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے مابین فاصلے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد خطے کے ممالک کے لیے افغانستان سے جڑے سکیورٹی خطرات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔