وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج اور دھرنے ختم کیے جائیں، حکومت کے دروازے مذاکرات کیلئے کھلے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مارچ اور دھرنے ختم ہونے کے بعد ہی مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران مسلسل محنت اور ٹیم ورک سے ملکی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔ ان کے مطابق حاصل کیا گیا معاشی استحکام ملک کی ترقی اور قومی مفاد کیلئے ضروری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے تمام ممکنہ کوششیں کی گئیں، تاہم یہ کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جبکہ دوسری جانب احتجاج اور دھرنوں کے باعث برآمدات، درآمدات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
وزیراعظم نے خبردار کیا کہ احتجاجی سیاست کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ ملک کی معاشی پیش رفت اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے۔
شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے تو ترقی کے پہیے کو دوبارہ روکنا کیا ملکی مفاد میں ہے؟
وزیراعظم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ احتجاج ختم کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے تو حکومت بات چیت کیلئے تیار ہے۔