دینِ اسلام کی اصل روح عدل، توازن اور میانہ روی پر قائم ہے۔ قرآنِ حکیم نے امتِ مسلمہ کو ‘امتِ وسط’ کا شرف بخشا ہے، جس کا مفہوم فکر و نظر اور عمل و کردار میں انتہا پسندی سے بچ کر اعتدال کی راہ اپنانا ہے۔ اسلامی تاریخ کا عمیق مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ جب بھی کسی گروہ نے اس فکری توازن سے انحراف کیا، وہ اسلام کے بنیادی مقاصد اور اس کی روح سے دور ہو گیا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے طبقات ابھرے جنہوں نے بظاہر اسلامی شعائر اور عبادات کو اپنایا، مگر ان کے باطن میں انتہا پسندی جڑ پکڑ چکی تھی۔ انہی متشدد گروہوں میں تاریخ کا سب سے پہلا، منظم اور خطرناک فتنہ خوارج کی صورت میں سامنے آیا، جس نے دین کے لبادے میں مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے اور ان کے قتل کو مباح جانا۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی معرکہ آرا تصنیف دہشت گردی اور فتنہ الخوارج میں قرآنی نصوص، احادیثِ مبارکہ اور ائمۂ اسلاف کے فیصلوں کی روشنی میں اس فتنے کا ایک مربوط اور مفصل فکری مقدمہ پیش کیا ہے۔ ان کی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عصرِ حاضر کے مسلح، انتہا پسند اور تکفیری گروہ کوئی جدید یا غیر متوقع مظہر نہیں ہیں، بلکہ وہ فکر اور عمل دونوں اعتبار سے تاریخی خوارج کا ہی تسلسل ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے یہ استدلال قائم کیا ہے کہ ریاست کو غیر مستحکم کرنے، شہریوں پر حملے کرنے اور خود ساختہ فقہی تاویلات کے سہارے بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے عناصر کے فکری اصول وہی ہیں جو چودہ سو سال قبل خارجیوں نے متعارف کرائے تھے۔
کتبِ اسلاف میں خوارج کا تعارف واضح فقہی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔ امام محمد بن عبد الکریم شہرستانی نے اپنی کتاب الملل والنحل میں لکھا ہے کہ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کی متفقہ حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کرے، وہ خارجی کہلائے گا، خواہ یہ خروج خلفائے راشدین کے عہد میں ہو، تابعین کے دور میں ہو یا بعد کے کسی بھی زمانے کی مسلمان حکومت کے خلاف ہو۔ امام نووی نے روضۃ الطالبین میں ان کی فکری شناخت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خوارج وہ بدعتی گروہ ہیں جو گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو کافر اور ہمیشہ کے لیے جہنمی قرار دیتے ہیں، اور اسی باطل نظریے کے سبب وہ مسلم حکام پر طعن زنی کرتے ہیں اور باجماعت سرگرمیوں سے بائیکاٹ کرتے ہیں۔
علامہ ابن تیمیہ نے النبوات اور مجموع فتاویٰ میں خوارج کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا کہ وہ ہتھیار اٹھانے اور قتال کرنے والے لوگ تھے، جن کی امت سے کھلی عداوت اس وقت عیاں ہوئی جب وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے لگے۔ علامہ ابن تیمیہ نے ایک اہم نکتہ یہ بھی بیان کیا کہ دورِ حاضر میں لوگ دین کے ظاہری لبادے کی وجہ سے ان کی حقیقت کو آسانی سے پہچان نہیں پاتے، حالانکہ وہ دین سے اسی لیے خارج ہوئے کہ انہوں نے مسلمانوں کے خون اور مال کو حلال قرار دیا۔ علامہ ابن تیمیہ نے یہ پیشگوئی بھی نقل کی کہ خوارج صرف سیدنا علی کے دور کا مخصوص لشکر نہیں تھے بلکہ ان کی نسل اور فکر دجال کے ظہور تک وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہے گی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے ‘فتح الباری’ میں تصریح کی ہے کہ انہیں امت کے بہترین طبقات کے خلاف مسلح جنگ چھیڑنے اور دین سے نکل جانے کے سبب خوارج کا نام دیا گیا۔
قرآنِ حکیم کی متعدد آیات میں خوارج کے گمراہ کن اوصاف اور ان کے فتنے کی علامات کو واضح کیا گیا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیتِ محکمات و متشابہات کی تفسیر میں امام ابن ابی حاتم اور حافظ ابن کثیر نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اہلِ زیغ یعنی دلوں میں کجی رکھنے والے وہی لوگ ہیں جو فتنہ برپا کرنے کے لیے متشابہات کی پیروی کرتے ہیں، اور اس سے مراد خوارج ہیں۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے جامع دمشق کے قریب خارجیوں کے سر دیکھ کر بارہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان سنایا کہ یہ دوزخ کے کتے ہیں اور بدترین مقتول ہیں۔
قرآنِ پاک نے سورۃ المائدہ کی آیت ۳۳ میں مسلم بستیوں کو غیر محفوظ بنانے اور آبادیوں پر ہتھیار اٹھانے والوں کو اللہ اور اس کے رسول سے برسرِ پیکار اور زمین میں فساد پھیلانے والا قرار دیا ہے، جس کے تحت قاضی ثناء اللہ پانی پتی اور امام بغوی کے مطابق دہشت گرد اور باطل تاویل سے خروج کرنے والے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔ سورۃ الرعد اور سورۃ الکہف کی تفاسیر میں حضرت سعد بن ابی وقاص اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما نے زمین میں فساد پھیلانے والوں اور بدترین خسارے میں مبتلا افراد کا مصداق خوارج کو ٹھہرایا ہے۔
تاریخی اعتبار سے فتنہ خوارج کی جڑیں عہدِ رسالت میں نمایاں ہو گئی تھیں۔ کتبِ حدیث میں متفق علیہ روایت ہے کہ مالِ غنیمت کی تقسیم کے وقت ذوالخویصرہ تمیمی نے رسول اللہ ﷺ کے عدل پر اعتراض کیا، جس پر آپ ﷺ نے خبردار فرمایا کہ اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی ظاہری نمازوں اور روزوں کے سامنے صحابہ بھی اپنے اعمال کو حقیر جانیں گے، مگر دین ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ بعد ازاں عہدِ عثمانی کے اواخر میں اسی انتہا پسندانہ سوچ نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے نظم کو چیلنج کر کے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک باب رقم کیا۔
عہدِ علوی میں جنگِ صفین کے موقع پر جب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے خوں ریزی کے خاتمے کے لیے تحکیم یعنی ثالثی کی پرامن راہ اختیار کی، تو خوارج نے اس مصالحت کو یکسر مسترد کر کے لا حکم الا للہ کا نعرہ لگایا۔ اس پر امیر المؤمنین نے تاریخی تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ کلمہ تو حق ہے مگر اس سے مقصود باطل لیا جا رہا ہے۔ خوارج نے نہروان کو مرکز بنا کر مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت شروع کی اور جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ بن خباب بن الارت اور ان کی حاملہ اہلیہ کو وحشیانہ انداز میں ذبح کر دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نہروان کے میدان میں ان کا مقابلہ کیا اور نبی اکرم ﷺ کی پیشگوئی کے عین مطابق ناقص بازو والے خارجی (ذوالثدیہ) کی ہلاکت پر سجدۂ شکر ادا کیا۔
خوارج فکری انتشار کے بعد ازارقہ، نجدات، عجاردہ، ثعالبہ، اباضیہ اور صفریہ جیسے چھ بڑے گروہوں اور بیس ذیلی فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ان کے مشترکہ باطل نظریات میں مسلم حکومتوں کے خلاف خروج کو واجب سمجھنا، گناہِ کبیرہ کے مرتکب کی تکفیر، صحابہ کرام اور ائمہ کو نعوذ باللہ کافر قرار دینا، مسلمانوں کے جان و مال اور ناموس کو اپنے لیے مباح جاننا، پرامن علاقوں کو دار الحرب قرار دینا، اور حتیٰ کہ ان مسلمانوں کی بھی تکفیر کرنا شامل تھا جو ان کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ نفسیاتی اعتبار سے خوارج شدید علمی جہالت اور عبادت کے تکبر میں مبتلا تھے۔ وہ خود کو حق کا واحد اجارہ دار سمجھتے تھے اور قیس بن سعد اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہما کی جانب سے امن و مذاکرات کی تمام تر پیشکشوں کو ٹھکرا دیتے تھے، جس کے نتیجے میں ان کی یہی سفاکیت عبد الرحمن بن ملجم کے ہاتھوں سیدنا علی کی شہادت کا باعث بنی۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب اور تاریخی شواہد سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ دورِ حاضر کی دہشت گرد تنظیمیں اسی تاریخی خارجیت کا پرتو ہیں۔ ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کرنا، معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا اور اسلامی نعروں کے پیچھے چھپ کر مسلمانوں کی تکفیر کرنا خوارج کے سوا کسی کا شیوہ نہیں۔ اسلام کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ شریعت کے نام پر فساد فی الارض برپا کرے، اور اس فتنے کا مقابلہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خوارج کی اس متشدد فکر کی شرعی، علمی اور معاشرتی سطح پر مکمل بیخ کنی نہ کی جائے۔
دیکھیے: پکتیکا فضائی حملے: حافظ گل بہادر گروپ نشانہ بنا، مقامی شہری کا دعویٰ