آٹھ اکتوبر 2005 کی وہ صبح آج بھی لوگوں کے دلوں میں ایک گہرا دکھ چھوڑ گئی ہے۔ اس سانحے کو 21 برس گزرنے کے باوجود اس کا درد کم نہیں ہوا۔ صبح 8 بج کر 50 منٹ پر اچانک زمین زور سے ہلنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آباد شہر، پہاڑوں کی بستیاں اور لوگوں کے گھر ملبے میں بدل گئے۔
مظفرآباد، بالاکوٹ، باغ اور وادیٔ نیلم میں ہر طرف تباہی پھیل گئی۔ لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے اور ہر طرف چیخ و پکار سنائی دیتی رہی۔ اس خوفناک زلزلے نے چند ہی لمحوں میں 73 ہزار سے زائد افراد کی جان لے لی، جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھروں اور عزیزوں سے محروم ہوگئے۔
وہ معصوم بچے جو بستہ بغل میں دبائے روشن مستقبل کے خواب سجائے اسکولوں میں داخل ہوئے تھے، مٹی اور پتھروں تلے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ وہ مائیں جن کے لال ان کی نگاہوں کے سامنے ملبے کا رزق بنے، آج اکیس برس بعد بھی ویران نگاہوں سے ان راہوں کو تکتی ہیں جہاں کبھی زندگی مسکراتی تھی۔ اگرچہ اس قیامت خیز گھڑی میں پوری قوم ایک جسم کی مانند بن کر اٹھی، رشتوں اور سرحدوں کے امتیازات مٹ گئے، اور انسانیت کے وہ نقوش ابھرے جنہوں نے تاریخ کو نیا حوصلہ بخشا؛ مگر یہ سوال آج بھی دامن گیر ہے کہ کیا ہم نے اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد حقیقت میں کچھ سیکھا بھی ہے؟
آج آٹھ اکتوبر 2026 کو جب ہم اس دلخراش سانحے کی یاد مناتے ہیں، تو یہ گھڑی محض آنسو بہانے یا نوحہ خوانی کی نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو کر احتساب کرنے کی ہے۔ قدرتی آفات کو روکنا یقیناً انسانی بس کی بات نہیں، مگر غفلت اور لاپرواہی کے ہاتھوں انسانی جانوں کو نذرِ آتش ہونے سے بچانا بہرحال انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اکیس برس کی طویل مسافت طے کرنے کے بعد بھی کیا ہمارے شہر، ہمارے اسکول اور ہمارے تعمیراتی ڈھانچے آئندہ کسی آزمائش کا مقابلہ کرنے کے اہل ہیں؟ کاغذی قوانین کی زینت بننے والے بلڈنگ کوڈز جب تک عملی میدان میں سختی سے نافذ نہیں ہوں گے، تب تک ہم صرف اگلی آفت کے منتظر رہیں گے۔
سانحۂ 8 اکتوبر کے شہدا کو سچا اور باوقار خراجِ عقیدت صرف چند تعزیتی بیانات یا یادگاری تقریبات تک محدود نہیں رہ سکتا۔ ان معصوم روحوں کا ہم پر یہ قرض ہے کہ ہم ان کی یاد کو ایک پختہ اور محفوظ مستقبل کے عزم میں بدلیں۔ تیاری کا وقت وہ نہیں ہوتا جب زمین لرز اٹھے اور قیامت ٹوٹ پڑے، بلکہ تیاری وہ ہے جو امن اور سکون کے دنوں میں کی جاتی ہے۔ آئیے آج کے دن اپنے گریبان میں جھانکیں اور عہد کریں کہ اس سانحے سے ملنے والے سبق کو کبھی فراموش نہیں ہونے دیں گے، تاکہ آنے والی نسلوں کو پھر کبھی بے بسی اور بربادی کے اسی مہیب موڑ پر کھڑا نہ ہونا پڑے۔
دیکھیے: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد پہنچ گئے