اکتوبر کی وہ صبح عام سی تھی۔ رمضان کا مہینہ تھا، سردیوں کی آمد آمد تھی، اور شمالی پاکستان کے پہاڑی قصبوں میں زندگی اپنے معمول پر تھی۔ مائیں بچوں کو اسکول بھیج چکی تھیں، دکانیں کھل رہی تھیں، اور کسی کو خبر نہ تھی کہ اگلے چند لمحوں میں سب کچھ بدل جانے والا ہے۔
صبح 8 بج کر 50 منٹ پر زمین کانپی۔ پیمانۂ زلزلہ پر شدت 7.6 تھی، مرکز مظفرآباد کے شمال مشرق میں اور گہرائی صرف 26 کلومیٹر۔ اتنی کم گہرائی کا مطلب یہ تھا کہ جھٹکا زمین کی سطح پر پوری طاقت سے پہنچا۔ جو لوگ اس دن وہاں موجود تھے، وہ آج بھی کہتے ہیں کہ وہ چند سیکنڈ نہیں، ایک پوری عمر تھی۔
اس کی وجہ ہمارے قدموں کے نیچے لاکھوں برس سے جاری ایک خاموش جنگ ہے۔ ہندوستانی اور یوریشیائی زمینی تختے مسلسل ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں، اور یہی دباؤ ہمالیہ کو بلند کرتا ہے اور شمالی پاکستان کو زلزلوں کے خطرے میں رکھتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا، یہ ہمارے جغرافیے کی حقیقت ہے جسے ہم نے اکثر نظرانداز کیا۔
اس سانحے میں 73,338 جاں بحق، 128,304 زخمی، 35 لاکھ بے گھر اور تقریباً 80 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے۔ ان اعداد کو پڑھنا آسان ہے، سمجھنا مشکل۔ ہر عدد کے پیچھے ایک نام تھا، ایک گھر تھا، ایک کہانی تھی جو ادھوری رہ گئی۔ تقریباً 6 لاکھ گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ ہسپتال، سرکاری عمارتیں، سڑکیں، پانی کے منصوبے، سب کچھ متاثر ہوا۔ 2,393 کلومیٹر سڑکیں اور 92 پل متاثر ہوئے۔ پہاڑوں سے تودے گرنے نے رہی سہی راہیں بھی بند کر دیں اور کئی بستیاں باقی دنیا سے کٹ گئیں۔ وہاں تک مدد پہنچی تو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے، اور کئی جگہ بہت دیر سے۔
اس سانحے کا سب سے دل شکن پہلو یہ ہے کہ زلزلہ مدرسے اور اسکول لگنے کے وقت آیا۔ 5,808 تعلیمی عمارتیں تباہ ہوئیں اور تقریباً 17,000 بچے اپنی جماعتوں میں ہی جان سے گئے۔ ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں، وہ مائیں جنہوں نے صبح بچوں کے بستے تیار کیے، وردیاں استری کیں، اور دروازے پر الوداع کہا۔ پھر وہ دن بھر ملبے کے گرد کھڑی رہیں۔ بہت سی ماؤں کے لیے وہ الوداع آخری ثابت ہوا۔ یہ وہ زخم ہے جسے وقت بھرتا نہیں، بس خاموش کر دیتا ہے۔
جو بچ گئے، ان کی کہانی بھی آسان نہ تھی۔ 35 لاکھ لوگ کھلے آسمان تلے تھے اور سردی سر پر آ چکی تھی۔ انہیں خیموں، کمبلوں، گرم کپڑوں، خوراک، صاف پانی اور دواؤں کی فوری ضرورت تھی۔ تقریباً 42 ہزار بچے یتیم ہوئے، 23 ہزار بچوں کو معذوری کا سامنا کرنا پڑا، اور 17,300 خواتین بیوہ ہو گئیں۔ ایک پوری نسل نے ایک ہی صبح میں اپنے والدین، اپنے اعضا یا اپنے سہارے کھو دیے۔ ان بچوں میں سے کئی آج جوان ہو چکے ہیں اور وہ دن ان کی یادداشت میں اب بھی اتنا ہی تازہ ہے۔
لیکن اس تاریکی میں ایک روشنی بھی تھی۔ پاکستان کے ہر کونے سے لوگ نکلے۔ کراچی سے خیبر تک عام شہریوں نے اپنے گھروں سے کپڑے، کمبل اور راشن اکٹھا کیا۔ نوجوان رضاکار پہاڑوں کی طرف روانہ ہوئے۔ دنیا بھر سے امداد اور بچاؤ کی ٹیمیں پہنچیں۔ دکھ نے قوم کو بانٹا نہیں، جوڑ دیا۔ شاید یہی ہماری اصل طاقت ہے۔ ہم منصوبہ بندی میں کمزور ہو سکتے ہیں، مگر درد میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لینے کا ہنر ہمیں خوب آتا ہے۔
ہم نے کیا سیکھا؟
زلزلے کے بعد ایک تلخ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ ہمارے پاس ایسی آفات سے نمٹنے کا کوئی منظم نظام نہیں تھا۔ اس کے بعد قومی ادارہ برائے انسداد آفات (این ڈی ایم اے)، صوبائی اداروں (پی ڈی ایم اے) اور ضلعی اداروں (ڈی ڈی ایم اے) پر مشتمل آفات سے نمٹنے کا ادارہ جاتی ڈھانچہ بنایا گیا۔ یہ ایک اہم قدم تھا، اور بعد کے سیلابوں اور دیگر آفات میں ان اداروں کی ضرورت بار بار محسوس ہوئی۔
مگر ایک ایمانداری سے بھرا سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا ہم نے واقعی وہ سب سیکھ لیا جو سیکھنا چاہیے تھا؟ ادارے بن جانا ایک بات ہے، اور عمارتی ضابطوں پر عمل، اسکولوں کی محفوظ تعمیر اور کمزور ڈھانچوں کی نشاندہی دوسری۔ آج بھی ملک کے کئی علاقوں میں ایسی عمارتیں کھڑی ہیں جو اگلے بڑے جھٹکے کے لیے تیار نہیں۔
زلزلہ روکا نہیں جا سکتا۔ یہ قدرت کا نظام ہے اور ہمارے بس سے باہر۔ لیکن نقصان کو کم کرنا ہمارے بس میں ہے، اور اس کے لیے کوئی معجزہ درکار نہیں۔ محفوظ عمارتیں، بہتر منصوبہ بندی، تربیت یافتہ عملہ اور بروقت امداد، یہی وہ چار ستون ہیں جو اگلی آزمائش میں جانیں بچا سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے بچے جہاں پڑھتے ہیں، وہ عمارت ان پر نہ گرے۔ یہ کوئی بڑا مطالبہ نہیں، یہ کم از کم ہے جو ہم ان 17,000 بچوں کی یاد میں کر سکتے ہیں جو کبھی گھر واپس نہ لوٹے۔
اکیس برس گزر گئے، مگر مظفرآباد، بالاکوٹ اور باغ کی گلیوں میں آج بھی کوئی ماں کسی تصویر کو دیکھ کر خاموش ہو جاتی ہے۔ ہم ان کا دکھ تو واپس نہیں لے سکتے، لیکن یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ان کی قربانی کو رائیگاں نہ جانے دیں۔ قومیں آفات سے نہیں ہارتیں، وہ تب ہارتی ہیں جب سبق بھول جاتی ہیں۔ آئیے آج عہد کریں کہ ہم یاد بھی رکھیں گے اور سیکھیں گے بھی۔ یہی ان کے لیے سب سے سچا خراجِ عقیدت ہے۔