طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان پر حالیہ الزامات کے بعد پاک افغان تعلقات میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد پاکستان پر الزام تراشی کر کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بی ایل اے کو افغان سرزمین پر ملنے والی پناہ گاہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان نے مذاکرات اور مفاہمت کے عمل کو سبوتاژ کیا۔ تاہم دستیاب سکیورٹی و سفارتی اعداد و شمار ان داوؤں کو مکمل طور پر غلط ثابت کرتے ہیں۔
سکیورٹی اقدامات
پاکستان نے خطے میں امن کی خاطر سفارتی اور سکیورٹی کی سطح پر تمام ممکنہ ذرائع اور راستے استعمال کیے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے وزرائے خارجہ کی سطح پر چار اہم دورے کیے گئے۔
اس کے علاوہ وزیر دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی پر مشتمل اعلیٰ سطح کے دو اہم مشن بھی افغانستان بھیجے گئے۔ پاکستان کے خصوصی نمائندے نے پانچ مختلف دورے کیے جبکہ سیکریٹری سطح کے پانچ اہم اجلاس منعقد ہوئے۔
سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے قومی سلامتی کے مشیر نے بھی افغانستان کا دورہ کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان قائم مشترکہ رابطہ کمیٹی کے آٹھ اجلاس منعقد کیے گئے تاکہ سرحدی معاملات کو حل کیا جا سکے۔
سرحدی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے 225 فلیگ میٹنگز کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے 836 احتجاجی مراسلے اور 13 رسمی سفارتی احتجاجی یادداشتیں بھی افغان حکومت کو پیش کیں۔
پاکستان کا واحد بنیادی مطالبہ
ان تمام ملاقاتوں، دوروں اور کئی ماہ پر محیط مذاکراتی ادوار میں پاکستان کا صرف ایک ہی بنیادی مطالبہ تھا۔ پاکستان نے افغان طالبان سے صرف یہ درخواست کی کہ وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی سرپرستی ختم کریں۔
پاکستان کی جانب سے افغان انتظامیہ کے سامنے کوئی دوسری پیشگی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔ پاکستان کا مؤقف روزِ اول سے واضح تھا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔
افغان طالبان کا انکار اور معاہدے سے فرار
ہر مذاکراتی دور کا انجام ایک ہی نقطے پر ہوا جس نے افغان طالبان کی نیت کو ظاہر کیا۔ جب بھی سکیورٹی کی نگرانی، جواب دہی اور عمل درآمد کے لیے قابلِ تصدیق طریقہ کار پر دستخط کا وقت آیا، افغان رجیم نے انکار کر دیا۔
افغان طالبان نے مسلسل کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط کرنے سے گریز کیا جس سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کو یقینی بنایا جا سکتا۔
پاکستان کے صبر کا پیمانہ
پاکستان نے طویل عرصے تک جس صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا، وہ اس کی کمزوری یا متبادل راستوں کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا۔ پاکستان نے خطے کے وسیع تر مفاد اور ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات بچانے کے لیے دانستہ طور پر تحمل برتا۔
تاہم مسلسل ناکامی اور افغان طالبان کے غیر سنجیدہ رویے کے باعث اب پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ سکیورٹی پر مزید سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار
تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان کے مذاکرات نیک نیتی پر مبنی نہیں رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف وقت حاصل کرنا، معاملے کو طول دینا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اس صورتِ حال کا براہِ راست فائدہ بھارت جیسے ملک کو ملتا ہے تاکہ وہ پاکستان کے خلاف بالواسطہ جنگ کو جاری رکھ سکے۔ پاکستان نے بارہا مذاکرات کی میز پر آ کر اپنی دیانت داری ثابت کی۔
حقیقت یہی ہے کہ مذاکرات کو پاکستان نے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم نے سبوتاژ کیا۔ انہوں نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی کارروائی کے واحد اور لازمی مطالبے کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کیا۔