خیبر پختونخوا میں حالات کو کشیدہ ظاہر کرنے کے لیے کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک گروہوں، پی ٹی آئی اور افغان و بھارتی پراپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے پرانی اور جعلی ویڈیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس گمراہ کن مہم کا بنیادی مقصد عوام میں خوف، بے چینی اور مایوسی پھیلانا ہے۔
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا میں نئی انتظامیہ کے اثر انگیز اور فیصلہ کن اقدامات کی بدولت دہشت گردانہ سرگرمیوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی ان کامیاب کارروائیوں کے بعد مخالف عناصر کے پاس پرانی ویڈیوز کو سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ پھیلانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔
پاکستانی فوجیوں کے بڑے پیمانے پر ہتھیار ڈالنے یا خیبر بازار میں حملوں سے متعلق کیے جانے والے تمام دعوے سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ دشمن عناصر سوشل میڈیا پر پرانے واقعات کو تازہ بنا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کے خلاف ایک مصنوعی بیانیہ قائم کیا جا سکے۔
اگرچہ خطے میں انسانی حقوق اور شہریوں کے متاثر ہونے سے متعلق مختلف تحفظات اور شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز کے خلاف یہ باقاعدہ پروپیگنڈا صرف افواہیں پھیلانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو تقسیم کرنے یا پشتونوں میں بیگانگی کے حوالے سے کیے جانے والے تمام تمام دعوے پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع اور ماہرین کے مطابق افغان اور بھارتی اکاؤنٹس کے ذریعے چلائی جانے والی اس قسم کی جعلی ویڈیوز اور پراپیگنڈا مہمات حقیقت کو بدل نہیں سکتیں، اور نہ ہی ان سے صوبے میں امن و امان کے لیے جاری اقدامات پر کوئی اثر پڑے گا۔





