"> سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے سیاسی تضادات، الحاقِ پاکستان پر متنازع بیانات، پرتعیش مراعات، اور غیر آئینی فیصلوں سے متعلق ان کا حکومتی ریکارڈ بے نقاب ہو گیا۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے سیاسی بیانات اور ان کے دورِ حکومت کے عملی اقدامات کے درمیان سنگین تضادات پر سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کی جانب سے کیے گئے دعوے، نعرے اور حکومتی ریکارڈ ایک دوسرے کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

نواز شریف کی نااہلی کے موقع پر راجہ فاروق حیدر کی جانب سے الحاقِ پاکستان پر سوال اٹھانے والے بیان نے بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ ان کے اس متنازع بیان پر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیے گئے اور پنجاب اسمبلی میں استعفے کی قرارداد بھی منظور ہوئی۔

اس کے علاوہ 2019 میں انہوں نے ایل او سی سے متعلق ریاست کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی تھی۔ پاکستان کے بارے میں ان کے تحفظات اور سنسنی خیز دعووں کو اسلام آباد کی جانب سے مسترد کیا جاتا رہا ہے، جس سے انتظامی سطح پر بداعتمادی بڑھی۔

حکومت سازی کے وقت سادگی اختیار کرنے کے دعووں کے برعکس راجہ فاروق حیدر کے دور میں وزیراعظم اور وزرا کی تنخواہوں و مراعات میں 200 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا۔ مزید برآں، شدید مالی خسارے کے باوجود متعدد پرتعیش گاڑیوں کی خریداری کے فیصلے کیے گئے۔

انہوں نے اپنی کابینہ کو 12 ارکان تک محدود رکھنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم انہوں نے اس وعدے کے برعکس 26 وزرا کی کابینہ تشکیل دی۔ اسی طرح چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کے بجائے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا۔

ان کے دورِ حکومت میں کی گئی اعلیٰ عدالتی تقرریوں کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا، جبکہ ریٹائرڈ افسران کی تاحیات غیر قانونی مراعات کو ہائی کورٹ نے ختم کیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جولائی 2026 میں عوامی کمیٹی کو “فتنہ” کہنے کے بعد اکتوبر میں انہی سے مذاکرات کی تجویز دینا ان کے بدلتے ہوئے سیاسی موقف کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب اقدامات کے بعد ٹی ٹی پی، افغان اور بھارتی اکاؤنٹس پرانی اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *