آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے سیاسی بیانات اور ان کے دورِ حکومت کے عملی اقدامات کے درمیان سنگین تضادات پر سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کی جانب سے کیے گئے دعوے، نعرے اور حکومتی ریکارڈ ایک دوسرے کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
نواز شریف کی نااہلی کے موقع پر راجہ فاروق حیدر کی جانب سے الحاقِ پاکستان پر سوال اٹھانے والے بیان نے بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ ان کے اس متنازع بیان پر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیے گئے اور پنجاب اسمبلی میں استعفے کی قرارداد بھی منظور ہوئی۔
اس کے علاوہ 2019 میں انہوں نے ایل او سی سے متعلق ریاست کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی تھی۔ پاکستان کے بارے میں ان کے تحفظات اور سنسنی خیز دعووں کو اسلام آباد کی جانب سے مسترد کیا جاتا رہا ہے، جس سے انتظامی سطح پر بداعتمادی بڑھی۔
حکومت سازی کے وقت سادگی اختیار کرنے کے دعووں کے برعکس راجہ فاروق حیدر کے دور میں وزیراعظم اور وزرا کی تنخواہوں و مراعات میں 200 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا۔ مزید برآں، شدید مالی خسارے کے باوجود متعدد پرتعیش گاڑیوں کی خریداری کے فیصلے کیے گئے۔
انہوں نے اپنی کابینہ کو 12 ارکان تک محدود رکھنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم انہوں نے اس وعدے کے برعکس 26 وزرا کی کابینہ تشکیل دی۔ اسی طرح چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کے بجائے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا۔
ان کے دورِ حکومت میں کی گئی اعلیٰ عدالتی تقرریوں کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا، جبکہ ریٹائرڈ افسران کی تاحیات غیر قانونی مراعات کو ہائی کورٹ نے ختم کیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جولائی 2026 میں عوامی کمیٹی کو “فتنہ” کہنے کے بعد اکتوبر میں انہی سے مذاکرات کی تجویز دینا ان کے بدلتے ہوئے سیاسی موقف کو ظاہر کرتا ہے۔





