کسی بھی آزاد اور خود مختار ریاست کی سلامتی، استحکام اور وجود کا دارومدار اس کے اہم قومی اداروں اور ان شہداء کی قربانیوں پر ہوتا ہے جنہوں نے ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ادارے اور شہداء کسی ایک فرد، جماعت یا نظریے کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے۔ قوم کا مشترکہ اثاثہ اور ملک کی بنیاد ہوتے ہیں۔
اس پس منظر میں جب کوئی قومی سطح کا سیاست دان یا مذہبی رہنما ملکی سلامتی کے ضامن اداروں یا شہداء کی قربانیوں کو اپنی سیاست کا نشانہ بناتا ہے، تو اس سے نہ صرف عوامی دل آزاری ہوتی ہے بلکہ خود اس رہنما کی سیاست اور شخصیت پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مولانا فضل الرحمن کو ایک انتہائی پختہ کار اور مدبر سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ سالوں اور ماضی کے چند سیاسی موڑ پر ان کے بیانات اور حکمتِ عملی شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی بیانیے کو جلا بخشنے کے لیے متعدد بار ایسے مواقف اختیار کیے جو ملکی اداروں اور شہداء کے وقار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ کبھی طاقتور حلقوں پر راست تنقید، کبھی سلامتی کے اداروں کے کردار کو متنازع بنانا، اور کبھی سیاسی جوڑ توڑ میں قومی اداروں کے نام کو گھسیٹنا یہ وہ طرزِ عمل ہے جس نے ان کی سیاست کو عوامی اور فکری سطح پر تنقید کا ہدف بنایا ہے۔
شہداء اور ملکی دفاعی ادارے کسی بھی ملک کے لیے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری نظام میں سیاسی اختلاف کا حق تو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن اس اختلاف کی آڑ میں ملکی تحفظ کے ضامن اداروں کو کمزور کرنا یا شہداء کی قربانیوں پر سوال اٹھانا ملک کی بنیادوں پر ضرب لگانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
جب سیاسی فورمز یا عوامی جلسوں سے ایسے الفاظ ادا ہوتے ہیں جو ملک کے محافظوں کا قد کاٹھ گھٹانے کا سبب بنیں، تو اس سے عالمی سطح پر دشمن عناصر کو ہدف حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاست پر یہ بنیادی اعتراض ہمیشہ سے رہا ہے کہ ان کا رویہ اور بیانیہ مستقل بنیادوں پر اصولوں کے بجائے سیاسی مفادات اور حالات کے تابع رہتا ہے۔ جب تک وہ حکومتوں کا حصہ رہتے ہیں یا پاور شیئرنگ میں ان کا قائم مقام رہتا ہے، تب تک تمام ادارے اور نظام ان کی نظر میں ٹھیک ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ اقتدار کی راہ سے جدا ہوتے ہیں یا ان کی سیاسی خواہشات کے مطابق نتائج سامنے نہیں آتے، تو وہ سخت احتجاجی سیاست اور اداروں پر چڑھائی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی رویے کو مخالفین اور تجزیہ کار موقع پرستی اور ذاتی مفاد کی سیاست سے تعبیر کرتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے ایک حسن ہے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا ہر شہری اور سیاست دان کا آئینی حق ہے۔ لیکن سیاست کی ایک حد ہونی چاہیے جہاں ملک، سلامتی کے ادارے اور شہداء کی عزّت و حرمت سب سے مقدم رہے۔ مولانا فضل الرحمن کی شخصیت اور سیاست پر ہونے والی شدید تنقید کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ اکثر سیاسی بقا کے لیے ان بنیادی حدوں کو عبور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اگر پاکستان کو مستحکم اور مضبوط بنانا ہے تو سیاست دانوں کو یہ درک کرنا ہوگا کہ اداروں اور شہداء کے خلاف بولنا کسی سیاسی فتح کا ذریعہ نہیں بلکہ ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔





