اسلام آباد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل نسلی یا لسانی بنیادوں کے بجائے انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے نئے صوبے بنانے کے ساتھ حکومتی نظام میں بنیادی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے، جبکہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنا کر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عوامی مسائل حل کرنے اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سابق وزیراعظم نے قانون کی حکمرانی کو ملکی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا یکساں احترام یقینی بنائے بغیر انتظامی اصلاحات کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے سول سروس میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور عوام کو مؤثر خدمات فراہم ہوں۔ ان کے مطابق وفاقی نظام میں توازن، مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی اور قانون کی بالادستی بہتر حکمرانی کے لیے ضروری ہیں۔





