اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ انہوں نے انتظامی اور مالیاتی اصلاحات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی نظام ایسا ہونا چاہیے جس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔
اسد عمر کے مؤقف کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل اختیارات کی حقیقی منتقلی کا متبادل نہیں ہونی چاہیے۔ موجودہ صوبوں کے اندر بھی مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ضروری ہے، تاکہ فیصلے عوام کے قریب ہوں اور شہری مسائل بروقت حل کیے جا سکیں۔
جنوبی پنجاب کا معاملہ
سیمینار میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو الگ صوبے بنانے کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں، تاہم نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے آئینی تقاضوں کی تکمیل اور سیاسی اتفاق رائے اہم ہیں۔
آئین کا آرٹیکل 140-اے مقامی حکومتوں کے نظام سے متعلق ہے۔ اس کے تحت صوبوں کو منتخب مقامی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ مؤثر بلدیاتی نظام سے مقامی مسائل کے حل اور عوامی سہولتوں کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
مالیاتی وسائل کی تقسیم کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ اور واضح طریقہ کار بھی اہم ہے۔ اس تناظر میں مالیاتی خودمختاری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بہتر حکمرانی کے بنیادی تقاضوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
مقامی اداروں کو مؤثر اختیارات اور مناسب وسائل فراہم کیے بغیر انتظامی اصلاحات کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔





