خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر اور سنگین سکیورٹی چیلنجز کی زد میں ہے، جس نے صوبے کے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی عدم توجہی اور ترجیحات کی غلط سمت کے باعث صوبے میں ریاستی عمل داری اور انتظامی امور بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں۔
ایسی صورتحال میں صوبے کی بگڑتی امن و امان کی حالت کو سنبھالنے اور عوام کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے گورنر راج کا نفاذ ایک ناگزیر اور انتہائی ضروری اقدام کے طور پر سامنے آتا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کے لیے عملی اقدامات کرنے کے بجائے سڑکوں کی سیاست اور وفاق کے ساتھ تصادم کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا دہشت گردی کے خلاف جنگ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
گورنر راج کے ذریعے وفاقی اور سکیورٹی اداروں کا مؤثر اور براہِ راست کردار نہ صرف دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تسلسل لائے گا بلکہ آئینِ پاکستان میں وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق ریاستی عمل داری کو دوبارہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ سکیورٹی کارروائیوں کا بنیادی مقصد یہی ہونا چاہیے کہ شہریوں کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔
گیلپ پاکستان کے حالیہ اسنیپ پول کے نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صوبے کے عوام کشیدگی اور تصادم سے تنگ آ چکے ہیں۔ سروے میں 81 فیصد شہریوں نے سیاسی مذاکرات کی حمایت کی جبکہ 72 فیصد نے سڑکوں پر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔ یہ اعدادوشمار پی ٹی آئی کی احتجاجی اور تصادمی سیاست کا نفی نامہ ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ عوام انتشار کے بجائے آئینی اور پُرامن راستہ چاہتے ہیں۔
پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ پی ٹی آئی اور دیگر فریقین ہٹ دھرمی چھوڑ کر آئینی و پُرامن مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور تشدد یا غیر ضروری سیاسی رکاوٹوں سے گریز کریں۔ گورنر راج کے نفاذ سے آئینی تقاضوں، سخت انتظامی تدابیر اور قومی ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کو ممکن بنا کر ہی صوبے کو بدامنی اور بدانتظامی کے اس دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔





