خلیج تعاون کونسل نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تمام رکن ممالک کے خلاف جارحیت تصور ہوگی۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جی سی سی کی وزارتی کونسل کے 168ویں اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ حوثی ملیشیا نے حرمین شریفین اور ان کے اطراف کے علاقوں، شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ بعض شہری زخمی بھی ہوئے۔
اعلامیے کے مطابق شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کونسل نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
سعودی عرب کے حقِ دفاع کی حمایت
جی سی سی نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے مملکت کے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ کونسل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ یمن اور حوثی ملیشیا سے متعلق قراردادوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اعلامیے میں حوثی ملیشیا کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے لیے عائد پابندیوں پر سختی سے عمل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کونسل نے حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور انہیں میزائلوں اور ڈرونز کے حصول میں مدد دینے والے تمام ذرائع بند کرنے پر بھی زور دیا۔
اقوام متحدہ کے بیان کا خیرمقدم
جی سی سی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 اکتوبر 2026 کے صدارتی بیان کا خیرمقدم کیا، جس میں سعودی عرب پر حوثی حملوں، بشمول آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے، کی مذمت کی گئی تھی۔ اس بیان میں بین الاقوامی قانون کے تحت سعودی عرب کے حقِ دفاع کی بھی توثیق کی گئی تھی۔
کونسل نے یمن کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے بحران کے سیاسی حل کے لیے مذاکرات اور مفاہمت پر مبنی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔
دیکھیے: اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم





