وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد جنگ نہیں بلکہ امن اور دفاع ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
قطر میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قربانیاں دی ہیں۔ ملک کئی برسوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق قطر بھی عالمی امن کے لیے ثالثی اور سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران حالات انتہائی سنگین ہوئے، لیکن پاکستان نے امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے قطر کی سفارتی کوششیں قابل قدر ہیں۔ پاکستان اور قطر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مل کر کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے باہمی اعتماد ضروری ہے۔ امن ایک ملاقات سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کرنا پڑتی ہیں۔
محسن نقوی نے عالمی امن کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم نے مسلسل 16 گھنٹے کام کیا۔
وزیر داخلہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ جنگ کے بجائے امن اور دفاع کا معاہدہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اس معاہدے کے ذریعے خطے میں امن اور علاقائی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کر رہا ہے۔
دیکھیے: اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم





