پاکستانی سیاسی افق پر چند ایسے نام ہمیشہ سے نمایاں رہے ہیں جنہوں نے ہر دور میں وقت کی نزاکت اور سیاسی ہوا کے رخ کے ساتھ چلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان انہی شخصیات کی فہرست میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی ناقدین کے نزدیک واضح نظریات اور اصولوں کے بجائے سیاسی مصلحت، مذاکرات اور اقتدار کے قریبی دائرے میں رہنے کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تجربہ کار سیاستدان کی توجہ کا محور اکثر حکومتی ایوانوں میں رسائی اور اہم عہدے یا مراعات حاصل کرنا رہا ہے۔ جب بھی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے آثار پیدا ہوتے ہیں، ان کی جماعت سیاسی اتحادوں اور سودے بازی کے عمل میں پیش پیش دکھائی دیتی ہے تاکہ حکومتی سیٹ اپ میں مناسب جگہ بنائی جا سکے۔
تاریخی طور پر مولانا فضل الرحمان نے مختلف سیاسی ادوار میں متضاد نظریات رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ تعاون کیا۔ وہ کبھی مسلم لیگ (ن) کے اتحادی بنے تو کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی اشتراک کیا۔ تحریکِ انصاف کی حکومت کے خلاف ان کا رویہ اور تمام مخالفین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوششیں دراصل اسی سیاسی حکمتِ عملی کا تسلسل تھیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ان کی سیاست کا یہ انداز کسی ایک نظریے سے زیادہ سیاسی ضرورت اور وقت کے تقاضوں کے تحت فیصلوں پر مبنی رہا ہے، جسے عوام کی بڑی تعداد اب موقع پرستی سے تعبیر کرتی ہے۔
ان کی سیاسی حکمتِ عملی کا ایک اہم باب وہ دور تھا جب ان کے پاس کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کی اہم ذمہ داری تھی۔ کشمیر جیسے حساس اور قومی نوعیت کے مسئلے پر انہیں ایک اہم منصب ملا، لیکن ان کے دورِ اقتدار پر اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اس عالمی اور قومی مسئلے پر اس سطح کا متحرک اور موثر کردار ادا نہ کر سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی، اور یہ پلیٹ فارم بیشتر اوقات سیاسی مفاہمتوں کی نذر رہا۔
جب بھی کشمیریوں کے مقدمے کو عالمی سطح پر مضبوطی سے پیش کرنے یا ٹھوس سفارتی پیش رفت کی ضرورت پیش آئی، ان کی جانب سے متوقع اثر انگیز حکمتِ عملی کے بجائے محدود اور روایتی ردِعمل ہی سامنے آیا۔ اس طرزِ عمل نے یہ تاثر قائم کیا کہ قومی نوعیت کے اہم امور پر بھی ذاتی اور جیو پولیٹیکل مصلحتوں کو ترجیح دی گئی۔
جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ عوام ووٹ کی طاقت سے سیاسی رہنماؤں کی کارکردگی کا احتساب کرتے ہیں، اور یہی صورتحال ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں بھی دیکھنے کو ملی۔ ان کا روایتی سیاسی گڑھ سمجھے جانے والے اس حلقے میں عوام نے انتخابات کے دوران مختلف فیصلہ سنایا۔ جب بنیادی عوامی مسائل اور علاقائی ترقی کے بجائے صرف سیاسی جوڑ توڑ کو ترجیح دی جائے، تو انتخاب کے دن ووٹرز کا فیصلہ تبدیلی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ڈی آئی خان کے انتخاب نے یہ واضح کیا کہ عوام اب محض روایتی بیانیے یا مذہبی کارڈ سے متاثر ہونے کے بجائے کارکردگی اور عملی نتائج کو ترجیح دے رہے ہیں، اور انہوں نے رائے دہی کے ذریعے اس طرزِ سیاست پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستانی سیاست کو محض روایتی اور مصلحت پسندانہ اندازِ فکر سے نکال کر کارکردگی پر مبنی بنایا جائے۔ مذہب اور سیاست کا ایسا امتزاج جو صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو، ملک کی حقیقی پیش رفت میں رکاوٹ بنتا ہے۔
جب تک ووٹر روایتی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اصولوں، بنیادی کارکردگی اور دیانت داری کو اپنا معیار نہیں بنائے گا، تب تک مصلحت پسندانہ سیاست کا غلبہ قائم رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اس طرزِ سیاست سے آگے بڑھ کر ملک کو حقیقی جمہوری اور ترقیاتی راستے پر گامزن کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔





