"> روس کی پاک افغان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش

روس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش کردی

روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سرحدی گزرگاہیں بحال کرنے کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔
روس نے پاک افغان کشیدگی

روس نے پاک افغان کشیدگی کم کرنے اور سرحدی گزرگاہیں بحال کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، جبکہ ماسکو نے تجارتی روابط متاثر ہونے پر تشویش ظاہر کی۔

October 20, 2026

روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور اختلافات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ روسی سفیر البرٹ خوریف کا کہنا ہے کہ ماسکو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور پاک افغان سرحدی گزرگاہوں کی بحالی کا خواہاں ہے۔

پاکستان میں روسی سفیر البرٹ خوریف نے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں پاکستان روس تعلقات پر گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

روسی سفیر کے مطابق پاک افغان سرحد کی مسلسل بندش سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے ساتھ تجارتی رابطے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھلیں گی اور اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی۔

البرٹ خوریف نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیف کے دورہ اسلام آباد کے دوران بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ صورتحال پر نمایاں طور پر بات چیت ہوئی۔

پاک روس تعلقات

روس میں تعینات پاکستانی سفیر فیصل ترمذی نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور روس اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

فیصل ترمذی نے مزید کہا کہ روس طالبان پر زور دیتا ہے کہ افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ انہوں نے روسی وزیر داخلہ کے حالیہ دورے کو دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور تعاون کی علامت قرار دیا۔

پاکستانی سفیر نے امید ظاہر کی کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

آزاد شراکت دار کا کردار

سابق پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کو بھارت یا افغانستان کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے ایک آزاد شراکت دار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ روس نے 2025 میں افغانستان کی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ رواں سال مئی میں روس اور افغانستان کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔ دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے روابط کے تناظر میں ماسکو کی جانب سے پاک افغان کشیدگی کم کرنے کی پیشکش سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

میر رضا علی کیس کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاری کردی گئی۔ رپورٹ میں پولیس تفتیش پر سوالات اٹھائے گئے اور جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

October 20, 2026

برطانیہ نے حوثیوں کے حملوں سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے ٹائفون لڑاکا طیارے، فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ اور فوجی مشیر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

October 20, 2026

سندھ کابینہ نے نوجوان تاجر میر رضا کیس کی رپورٹ جاری کرنے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

October 20, 2026

رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔ کاپی کریں

October 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *