جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ کے حالیہ بیان کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ ناقدین کی جانب سے حافظ حمد اللہ کے سیاسی مؤقف، ماضی کے فیصلوں اور بطور نمائندہ ان کی کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ حافظ حمد اللہ جمہوری اقدار اور اصولوں کی بات کرتے ہیں، جبکہ ماضی میں وہ اور ان کی جماعت ان سیاسی التحادوں کا حصہ رہے ہیں جن پر جمہوریت کی تضعیف کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بننا اور منتخب حکومتوں کی مخالفت ان کے موجودہ بیانیے کے متضاد ہے۔
بلوچستان کی سیاست اور ترقی کے حوالے سے بھی حافظ حمد اللہ سے سخت سوالات کیے جا رہے ہیں۔ بطور صوبائی وزیرِ صحت اور چھ سال سینیٹر رہنے کے باوجود ناقدین ان سے صوبے میں صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں کی گئی پیشرفت کا حساب مانگ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی بیانیے بنانا ان کا شیوہ رہا ہے۔
ان کے حالیہ بیانات کو مولانا فضل الرحمان کے فیصلے کے دفاع اور سیاسی مفادات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مخالفین کا موقف ہے کہ اختلافِ رائے کو جہالت قرار دینا اور تنقید کا سامنا کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام تراشی کرنا جمہوری رویہ نہیں ہے۔





