وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے مل بیٹھ کر لائحہ عمل طے کریں۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ملک اس وقت دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس مسئلے پر بات کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال کے دوران صوبائی حکومت کا وفاق کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں مل رہا تھا۔ تاہم، ان کے مطابق بلوچستان کی صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔
پوزیشن کو مذاکرات کی دعوت
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم آج بھی دہشت گردی کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی سے بھی وزیراعظم سے ملاقات کرنے کی اپیل کی۔
ان کے مطابق محمود اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی کے دستخط سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے، لیکن وہ اسپیکر چیمبر میں جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ وہ خود بھی محمود اچکزئی کے پاس گئے اور انہیں وزیراعظم سے ملاقات کرنے کا مشورہ دیا۔
اپوزیشن کی عدم شرکت پر تنقید
سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کے نمائندے ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے، حالانکہ وہاں کھل کر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ایک فوجی افسر کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے مسئلے پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں کے دوران بعض افراد کی جانب سے اداروں کے خلاف بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کے حوالے سے قواعد و ضوابط کے تحت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کبھی وہ عدالتوں کے ذریعے جیل سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے رہائی کی امید رکھتے ہیں۔





