سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان متنازع خطے ابیئی میں امیت بازار پر ہونے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق اس خونی حملے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت بڑی تعداد میں شہری لقمہ اجل بنے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور لاپتا ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق یہ حملہ امیت بازار میں کیا گیا، جہاں قریبی ایندھن کے ڈپو کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زخمیوں کی حالت اور تباہی کے پیش نظر ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ متاثرین میں تاجر، نوک ڈنکا برادری کے افراد، جنوبی سوڈان واپس آنے والے شہری اور سوڈانی پناہ گزین بھی شامل ہیں۔
مقامی حکام نے اس حملے کا ذمہ دار سوڈانی فوج کو قرار دیا ہے۔ یہ بازار ان علاقوں تک اشیائے ضروریہ پہنچانے کے لیے ایک انتہائی اہم تجارتی گزرگاہ ہے جہاں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کا کنٹرول ہے۔
واقعے کے بعد جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوڈانی سفیر کو طلب کیا اور اس پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ دوسری جانب،اقوام متحدہ نے ابیئی اور دیگر علاقوں میں ڈرون حملوں اور شہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
عالمی ادارے نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے شہریوں اور شہری املاک کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ سوڈان میں اپریل 2023 سے سرکاری فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ابیئی ایک ایسا متنازع خطہ ہے جس پر سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں اپنے دعوے پیش کرتے ہیں، اور حالیہ خونریز واقعے نے خطے میں امن و سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔





